November 19, 2019

کیا یہ بھی نہ پوچھیں کہ 100 ارب کا قرضہ لیا وہ کہاں گیا؟ چیئرمین نیب

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :: قومی ادارہ احتساب نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی نہیں، قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ کیا آپ سے یہ بھی نہ پوچھیں کہ 100 ارب کا قرضہ لیا وہ کہاں گیا؟
تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ احتساب نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے تمام افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ یا گروپ سے نہیں۔ نیب کا تعلق صرف پاکستان اور عوام کے ساتھ ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، پاکستان سلامت رہے گا۔ برسر اقتدار لوگوں پر نیب آنکھیں بند رکھے، ایسا نہیں ہوگا۔ تردید کرتا ہوں کہ نیب کا جھکاؤ ایک طرف ہے۔ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے، پہلے ماضی کے مقدمات پر توجہ دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے کوئی توقع نہ رکھے جو صاحب اقتدار ہے اس کی جانب آنکھیں بند رکھیں گے، اب ہم دوسرے محاذ کی طرف جا رہے ہیں۔ بظاہر احتساب یکطرفہ نظر آتا ہے اس شکایت کا بھی ازالہ کریں گے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ 30 سے 35 سال کی کرپشن کو بھی دیکھا گیا، جن کو آئے کچھ ماہ گزرے ہیں اس دور میں بھی کرپشن کو دیکھیں گے۔ کوئی نہ سمجھے کہ وہ حکمران جماعت میں ہے تو بری الذمہ ہے۔ کچھ تو دیکھنا ہوگا 30، 35 سالوں میں کیا کرپشن ہوئی، 12 یا 14 ماہ میں کیا ہوا۔ سنہ 2017 کے بعد کرپشن کا کوئی بڑا کیس سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کیس میں سپریم کورٹ سے اسٹے ہے، نیب سپریم کورٹ کے حکم امتناع سے آگے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتی۔ کوشش کر رہے ہیں یہ حکم امتناع ختم ہوجائے۔
چیئرمین کا کہنا تھا کہ مجھ پر الزام تراشی، کردارکشی اور دھمکیوں کا کوئی فائدہ نہیں، نیب سمجھوتہ کرے گا یا میں سرینڈر کروں گا اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہماری طرف سے نہ کوئی ڈھیل نہ کوئی ڈیل نہ این آر او ہوگا۔ ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی نہیں، قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ وسائل کی کمی کا رونا نہیں روتے، موجود وسائل میں پہلے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 90 دن میں میگا کرپشن کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوسکتی، آج گرفتار کیا جائے تو کل کہتے ہیں سیاسی انتقام ہے۔ گزارش ہے کارکردگی کو ان لوگوں کی رائے سے نہ دیکھا جائے جو نیب کے ریڈار پر ہیں یا کیس کا سامنا کر رہے ہیں۔
جاوید اقبال نے کہا کہ آپ سے یہ بھی نہ پوچھیں کہ 100 ارب کا قرضہ لیا وہ کہاں گیا، بجٹ کروڑوں کا اور بچہ ویکسین نہ ہونے پر ماں کی گود میں مر جاتا ہے۔ کچھ لوگوں صوبوں کا کارڈ استعمال کرتے ہیں اس سے نیب پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایک شخص لندن امریکا میں علاج کرواتا ہے کیا باقی انسان نہیں۔انہوں نے مزید کہا اس وقت 12 سو 70 ریفرنس 940 ارب روپے کے ہیں۔ جو جج صاحبان اس کام کے لیے مقرر ہیں ان کی تعداد صرف 25 ہے۔ قانون کہتا ہے 30 دن کے اندر کیسز کا فیصلہ کریں۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کسی کے گھر کی خاتون، ماؤں بہنوں کو نیب کے کسی دفتر نہیں بلایا جائے گا۔ نیب کسی کے گھر جائے گی تو خاتون افسر ساتھ ہوگی۔ پلی بارگین سے کسی کو نہیں روکا، آئیں اور پلی بارگین کریں۔

November 19, 2019

نواز شریف علاج کے لئے لندن روانہ

لاہور : جدت ویب ڈیسک ::سابق وزیراعظم نوازشریف علاج کے لئے لندن روانہ ہوگئے ، شہباز شریف، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور 2 ملازمین ان کے ہمراہ ہیں، ایئر ایمبولینس لندن کے وقت کے مطابق ساڑھے6 بجے ہیتھرو ایئرپورٹ اترے گی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے بیرون ملک روانہ ہوگئے، نوازشریف کو ایئرایمبولینس میں براستہ دوحا لندن لے جایا جائے گا ، شہباز شریف، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور 2 ملازمین ان کے ہمراہ ہیں۔
روانگی سے قبل نواز شریف کے تمام ضروری ٹیسٹ کئے گئے تھے ، جس کے بعد ڈاکٹرز نے پائلٹ کو اڑان بھرنے کے لئے کلیئرنس دی تھی۔
اس موقع پر ائیر پورٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف بذریعے ایمبولینس علامہ اقبال ایئرپورٹ کےحج ٹرمینل پہنچ تھے، مریم نواز اور دیگر اہل خانہ بھی نوازشریف کے ہمراہ حج ٹرمینل پہنچے تھے۔
ایئر پورٹ پر نواز شریف، شہبازشریف ، ڈاکٹر عدنان،محمد عرفان،عابداللہ جان کے پاسپورٹ امیگریشن حکام کے حوالے کئے اور امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا جبکہ نواز شریف کی میڈیکل فائل قطر ایئرویز کے ڈاکٹرز کے حوالے کی گئی تھی ، ذرائع کا کہنا تھا کہ ایئرایمبولینس کے ڈاکٹرز نواز شریف کا بلڈپریشر،شوگر چیک کریں گے جبکہ نوازشریف کا سی بی سی ٹیسٹ بھی کیا جائےگا، ضروری ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹرز پائلٹ کو اڑان کی اجازت دیں گے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف صبح لندن روانہ ہوں گے، ان کے ہمراہ 5 لوگ ایئرایمبولینس میں روانہ ہوں گے ، جن میں شہباز شریف اورذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ، عابد اللہ جان اور محمد عرفان شامل ہیں ، ایئرایمبولینس میں آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی سہولت موجود ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ سفر پر روانگی سےقبل ڈاکٹرز کا محمد نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا ، سفر میں خطرات سے بچانے کے لئے اسٹیرائڈز کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئیں، ڈاکٹرز نے تمام طبی احتیاط پیش نظر رکھی ہیں ، جس سے محفوظ سفریقینی ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق قطرایئرویز کی ایئر ایمبولینس اے سیون ایم ای ڈی نواز شریف کو براستہ دوحہ لندن پہنچائے گی ،ایئر ایمبولینس کو دوپہر بارہ بجے تک کی کلیئرنس دی گئی ہے، دوحہ ایئرپورٹ پر ایئر ایمبولینس کا طبی عملہ تبدیل کردیا جائے گا، ایئرایمبولینس دوحہ سے مقامی وقت کے مطابق 2 بجے لندن کے لئے روانہ ہوگی، لندن روانگی سے پہلے پلیٹ لیٹس چیک کیے جائیں گے، 50 ہزارپلیٹ لیٹس کی صورت میں نوازشریف سفرکرسکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر ایمبولینس لندن کے وقت کے مطابق ساڑھے6 بجے ہیتھرو ایئرپورٹ اترے گی ، جس کے بعد نواز شریف کو ایئرپورٹ سے پارک لین فلیٹس لایا جائے گا۔
دوسری جانب ن لیگ کے 21رہنماؤں کو حج ٹرمینل تک آنےکی اجازت دے دی گئی تھی ، جن میں راجہ ظفرالحق،احسن اقبال،خواجہ آصف ،ایازصادق ، مریم اورنگزیب،خرم دستگیر سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔
خیال رہے امیگریشن حکام نے بتایا ہے کہ نوازشریف کا نام بدستور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رہے گا ، نوازشریف عدالتی حکم دکھا کربیرون ملک علاج کے لئے جاسکیں گے، انہیں صرف ایک بار بیرون ملک جانیکی اجازت ملی ہے۔
یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کےغرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

November 19, 2019

ٹوائلٹ کا عالمی دن: پاکستان میں ڈھائی کروڑ افراد بیت الخلا کی سہولت سے محروم

جدت ویب ڈیسک ::دنیا بھر میں آج بیت الخلا کا عالمی دن یعنی ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ہماری زندگیوں میں بیت الخلا کی موجودگی کی اہمیت اور پسماندہ علاقوں میں اس کی عدم فراہمی کے مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز سنہ 2013 میں کیا گیا جس کا مقصد اس بات کو باور کروانا ہے کہ صحت و صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک محفوظ اور باقاعدہ بیت الخلا اہم ضرورت ہے۔ اس کی عدم دستیابی یا غیر محفوظ موجودگی بچوں اور بڑوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 4 ارب سے زائد افراد ایک مناسب بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہیں، لگ بھگ 70 کروڑ افراد کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں، جبکہ 3 ارب افراد کو ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔

پاکستان میں بیت الخلا کا استعمال

بھارت میں واش رومز کی تعمیر پر اس قدر سرعت سے کام کیا گیا کہ رواں برس بھارت کو کھلے میں رفع حاجت کے رجحان سے پاک قرار دیا جاچکا ہے، نیپال بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے، تاہم پاکستان میں اب بھی ڈھائی کروڑ افراد کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔

یونیسف کے مطابق پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جہاں لوگ کھلے عام رفع حاجت کرتے ہیں۔ یعنی کل آبادی کے 13 فیصد حصے کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں۔ یہ تعداد زیادہ تر دیہاتوں یا شہروں کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے۔یونیسف ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صفائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے روزانہ پانچ سال کی عمر کے 110 بچے اسہال، دست اور اس جیسی دیگر بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔نئی صدی کے آغاز میں طے کیے جانے والے ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز میں (جن کا اختتام سنہ 2015 میں ہوگیا) صاف بیت الخلا کی فراہمی بھی ایک اہم ہدف تھا۔ پاکستان اس ہدف کی نصف تکمیل کرنے میں کامیاب رہا۔ رپورٹس کے مطابق سنہ 1990 تک صرف 24 فیصد پاکستانیوں کو مناسب اور صاف ستھرے بیت الخلا کی سہولت میسر تھی اور 2015 تک یہ شرح بڑھ کر 64 فیصد ہوگئی۔

سنہ 2016 سے آغاز کیے جانے والے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں طے کیا گیا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا کے ہر شخص کو صاف ستھرے بیت الخلا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پاکستان اس ہدف کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان میں یونیسف کی ترجمان انجیلا کیارنے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں باتھ روم کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ ایک حیرت انگیز اور خوش آئند کامیابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف ستھرے بیت الخلا کے استعمال اور صحت و صفائی کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات اور آگاہی مہمات چلائی جانی ضروری ہیں۔

November 18, 2019

حکومت کی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل ۔اسد عمر کی واپسی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کرنے کا اعلان کردیا جس کے مطابق اسد عمر کو بھی وزارت دی گئی ہے۔
معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ کے ذریعے آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسد عمر کو وزیر برائے منصوبہ بندی اور اسپیشل انیشٹو ، خسرو بختیار کو وزیر پیٹرولیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزارتوں کا نوٹی فکیشن جلد جاری کردیا جائےگا۔
یاد رہے کہ تین روز قبل خبر سامنے آئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کے معاملے پر ایک بار پھر غور شروع کردیا ، ذرائع کا کہنا تھا کہ ردوبدل کافیصلہ کچھ عرصے قبل کیا گیا تھا تاہم دھرنے اور سیاسی صورتحال کے باعث فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کچھ وزارتوں میں ناقص کارکردگی پر کیا گیا، اس ضمن میں کور کمیٹی سے بھی مشاورت کی گئی۔

November 18, 2019

ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب ۔ کنٹینر کے اوپر جو سرکس ہوئی انکو کہا تھا ایک ماہ گزار کر دکھائیں تو میں مان جاؤں گا

جدت ویب ڈیسک ::ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر کے اوپر جو سرکس ہوئی اس پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں، دھرنے کے ایکسپرٹ پی ٹی آئی والے ہیں۔ میں نے پہلے دن سے کہا تھا کہ یہ ایک ماہ گزار کر دکھائیں تو میں مان جاؤں گا۔ ہم نے 126 دن گزارے تھے۔ کابینہ میں لوگوں کو سمجھایا جاتا تھا کہ فکر نہ کرو میں دھرنے کے بارے میں جانتا ہوں، اس کے لیے کوئی مقصد ہوتا ہے کوئی نظریہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کے بچوں کے حوالے سے ہم ذمہ داریاں لیں گے، جے یو آئی (ف) کے دھرنے کے بارے میں جب بچوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہ اسلام خطرے میں ہیں، کسی کو پتہ نہیں تھا کہ آئے کیوں ہیں، مجھے تکلیف ہے کہ بارش ہوئی بچے باہر بیٹھے ہیں، گرم کپڑے لیکر کنٹینر میں مولانا فضل الرحمن باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پیسوں کے لیے دین کو بیچنا یہ بہت بڑا گناہ ہے، ایک آدمی خود کو مولانا کہہ رہا ہے، ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا ہے، کشمیر کمیٹی کے چیئر شپ پر بکنے والا وہ اسلام کے نام پر بچوں کو ورغلا رہا تھا۔ میں ان سے کوئی انتقام نہیں لینا دعا ہے اللہ اس کی آخرت بچائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف دھرنے کے دوران کنٹینرز پر کھڑے ہوئے تھے، جو منڈیلا بنے ہوئے تھے، بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے، ان کی تھیوری سے دنیا کے سائنسدان گھبرا گئے ہیں، طنزاً انہوں نے کہا کہ جب بارش ہوتی تو پانی آتا ہے، جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، میں حیران یہ خود کو لبرل کہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی طبیعت زیادہ خراب تھی، میں نے زر ضمانت کے لیے 7 ارب روپے مانگے تھے، یہ ان کے لیے بہت معمولی چیز تھی یہ اتنا تو ٹپ دے سکتے ہیں، اس پر ان لوگوں نے ڈرامے شروع کر دیئے، شہباز شریف نے بالی ووڈ کی ایکٹنگ کرنا شروع کر دی۔ کہتے میں اپنےبھائی کی گارنٹی دیتا ہوں، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے اپنے بیٹے، داماد کی گواہی دیں۔ میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے بھاگے ہوئے ہیں۔ اسحق ڈار بھی باہر بھاگے ہوئے ہیں ان کی گارنٹی دے گا، میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ (شہبازشریف) کی گارنٹی کون دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر دوسرے بیروز گار بھی موجود تھے۔ جن کو ڈر تھا کہ کرپشن میں پکڑے جائیں گے وہ کنٹینر میں موجود تھے، ن لیگ والوں کو جدھر پیسہ ملتا ہے ادھر چلے جاتے ہیں، جہادیوں کی طرف سے پیسہ ملتا ہے وہاں چلے جاتے ہیں، لبرل والوں سے ملتے ہیں اُدھر چلے جاتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں 100 دن سے زائد ہو گئے وہاں ظلم ہو رہا ہے، ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے وہ کون کھڑا ہو گا، پاکستان میں سارا میڈیا جے یو آئی (ف) کے دھرنے کی طرف لگا ہوا تھا، اپوزیشن کی ایک کوشش تھی کہ یہ سب لوگ پریشر ڈال کر کسی نہ کسی طرح کرپشن کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اپوزیشن والے کہتے رہے کسی کو بھی وزیراعظم بنا دیں عمران خان ہمیں نہیں چاہیے، انہیں پتہ ہے کہ عمران خان کو کوئی خرید نہیں سکتا۔ اگر میں ان کی بلیک میلنگ میں آ کر کرپشن کیسز کے بارے میں اداروں کو کہوں کہ پیچھے ہٹ جاؤں، دس سال میں ان لوگوں نے خوب لوٹا ، اس سے پہلے پرویز مشرف نے دونوں کو بھی معاف کر دیا تھا، یہ این آر او ہے لیکن میں انہیں کسی صورت معاف نہیں کروں گا، نہ این آر او دوں گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے آخرت کی فکر ہے، ان لوگوں نے دس سالوں میں چار گنا قرضہ بڑھایا ہے، میں عوام کی تکلیف محسوس کرتا ہوں، مہنگائی اس لیے ہے کہ جب ایک گھر کو مقروض کر دیتے ہیں تو وہ گھر کو مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔ قرضے کی قسطیں واپس کرتا ہے تو گھر مشکل وقت سے گزرتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ملک پر مشکل وقت ہے جو دونوں اپوزیشن پارٹیوں کی وجہ سے ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت بہترین طریقوں سے مقابلہ کرنا سکھایا ہے۔ میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے ہارنا بھی آتا ہے اور جیتنا بھی آتا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہمیں بہت فائدہ ملے گا، ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری سے زراعت کو بہت فائدے ملے گا ہماری زراعت کی پیداوار بہت کم ہے اب بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔ ہم زرخیز زمین ہیں، ہمیں صرف پیداوار دگنی ہیں تو پاکستان میں خوشحالی آ جائے گی، اس کے لیے ہمیں پانی کا صحیح استعمال کرنا ہو گا۔ دودھ کی پروڈکشن بھی بڑھانے کے لیے سی پیک اہم کردار اد کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین ہمارے نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دے رہے ہیں، یہ یوتھ ہماری طاقت بن جائے گی۔ انڈسٹری ہر قسم کی پاکستان میں آ رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مراد سعید کی تعریف کرتا ہوں ان کا تعلق کسی سیاستدان سے تعلق نہیں، یہ میرٹ پر آئی ایس ایف کے ذریعے اوپر آئے، ان کی وزارت نے بہت اچھے کام کیے، پوسٹل سروس کو اٹھانا میں نے مراد سعید کو مبارکباد دیتا ہوں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیسہ اپنے عوام پر لگانا ہے، نوجوانوں پر پیسہ لگانا ہے، تعلیم پر اور ہسپتالوں پر پیسہ لگائیں گے، موٹروے اور سی پیک کے تحت سڑکیں بھی بنائیں گے، سڑکوں کے لیے جو چیزیں باہر سے منگوائیں گئے اس پر ڈیوٹی فری ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا سال بہت مشکل تھا، پیسہ نہیں تھا، انڈسٹری لگانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں کوشش کر رہے ہیں، 50 لاکھ گھر بنائیں گے، قانون میں تبدیلی لا رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کام شروع ہو گا تو چالیس انڈسٹری مزید اٹھیں گی۔

Live Stream: Prime Minister of Pakistan Imran Khan Speech at Inauguration Ceremony of CPEC Havelian Thakot Project (Havelian-Mansehra Section of Hazara Motorway) Havelian Interchange Khyber Pakhtunkhwa (18.11.19)#PrimeMinisterImranKhan #PTI #CPEC #HazaraMotorway #NHA #Hazara #KKH #E35Expressway

Posted by Shah Mahmood Qureshi on Monday, November 18, 2019

November 18, 2019

کراچی: آٹے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، شہری پریشان

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::شہر قائد میں آٹے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا، فائن آٹے کی قیمت 55 روپے فی کلو اور چکی کے آٹے کی قیمت 62 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ خوراک سندھ اور فلور ملز کے درمیان گندم اٹھانے کا معاملہ حل نہ ہوا لیکن آٹا مہنگا کر دیا گیا۔ کراچی میں فائن آٹے کی قیمت 55 روپے فی کلو اور چکی کے آٹے کی قیمت 62 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ کمشنرکراچی کی جاری فہرست میں فائن آٹے کی ہول سیل میں قیمت 42 اور ریٹیل میں 44 روپے فی کلو ہے۔
محکمہ خوراک سندھ نے فلور ملز کو پاسکو سے براہ راست گندم اٹھانے کی ہدایت کر دی۔ فلور ملز مالکان نے پاسکو سے براہ راست گندم اٹھانے کی صورت میں کرائے کی مد میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔خیال رہے کہ محکمہ خوراک نے 28 اکتوبر کو سندھ فلور ملز اور آٹا چکیوں کے لیے سرکاری گندم جاری کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ سندھ حکومت نے سندھ کے 6 اضلا ع کو 41000 ہزار ٹن گندم اکتوبر کے کوٹے میں جاری کی تھی۔

November 18, 2019

پاکستانی ٹینس اسٹار کا بھارت کے خلاف ڈیوس کپ سے دست برداری کا بڑا فیصلہ

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق نے بڑا فیصلہ کر لیا، اعصام الحق بھارت کے خلاف احتجاجاً ڈیوس کپ ٹائی سے دست بردار ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اعصام الحق نے بھارت کے خلاف ڈیوس کپ سے دست برداری کا فیصلہ کر لیا ہے، ٹینس اسٹار نے پاکستان ٹینس فیڈریشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔
اعصام الحق کا کہنا تھا کہ وہ نیوٹرل وینیو پر احتجاجاً پاکستان ٹیم کا حصہ نہیں بنیں گے، بھارت نے دھرنے کا بہانا بنا کر ایونٹ کی میزبانی سے محروم کیا ہے، کھیل کو سیاست سے ملانا غلط ہے، آئی ٹی ایف (انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن) اہنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
ٹینس اسٹار نے کہا کہ ڈیوس کپ کی منتقلی سے ہمارا مذاق اڑایا گیا ہے، آئی ٹی ایف کا سیکورٹی وفد پہلے ہی کلیئرنس دے چکا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بھارتی بلا خوف کرتارپور، ننکانہ صاحب اور ٹیکسلا آ رہے ہیں، برطانوی شاہی خاندان بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے، ملکہ ہالینڈ بھی رواں ہفتے پاکستان آ رہی ہیں، بڑی تعداد میں بین الاقوامی مقابلے بھی پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے میزبانی لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، آئی ٹی ایف اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔یاد رہے کہ 5 نومبر کو آئی ٹی ایف نے ڈیوس کپ ٹائی کی میزبانی پاکستان سے یہ کہہ کر واپس لی تھی کہ اسے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سیکورٹی سب سے زیادہ عزیز ہے، پاکستان میں دھرنے بھی جاری ہیں، سیکورٹی ماہرین کی تازہ رپورٹ کی روشنی میں ڈیوس کپ ٹائی کو نیوٹرل مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کا مقابلہ رواں ماہ کے اختتام پر 29 اور 30 نومبر کو اسلام آباد میں ہونا تھا۔