July 3, 2020

سنسنی خیز انکشافات ۔عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پہلی بار منظر عام پر، سیکڑوں‌ قتل کا اعتراف

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آگئی جس میں ملزم نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

 عزیر بلوچ کی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ  36 صفحات پر مشتمل ہے، سندھ حکومت خود پیر کے روز لیاری گینگ وار کے سرغنہ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر لائے گی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں حبیب جان، حبیب حسن، سیف علی اور نور محمد سمیت عزیر بلوچ کے اہل خانہ اور دوستوں کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے تفتیش کے دوران لسانی اور گینگ وار تنازع میں 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا۔

رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر 7 ایس ایچ اوز مختلف تھانوں میں تعینات کرائے جبکہ اقبال بھٹی کو لیاری میں ٹاؤن پولیس افیسر  تعینات کروایا، اسی طرح 2019 میں محمد رئیسی کو ایڈمنسٹیٹر لیاری تعینات کروایا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کےبیرون ملک فرار ہونے کے بعد لاکھوں روپے ماہانہ بھتہ دبئی باقاعدگی سے پہنچایا جاتا تھا۔ عزیر بلوچ نے گینگ وار کے لیے سنہ 2008 سے 2013 کے دوران مختلف ہتھیارخریدنےکا اعتراف بھی کیا۔ ملزم نے تفتیشی ٹیم کے سامنے اعتراف کیا کہ اُس نے متعدد پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو قتل کیا۔

جے آئی ٹی کے مطابق عزیربلوچ کے پاکستان اور دبئی میں غیرقانونی اثاثوں کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے، رپورٹ میں ملزم کے 20 سے زائد دوستوں کے نام  اور 16 رکنی اسٹاف کا ذکر بھی شامل ہے۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ گینگ وار میں بلاواسطہ ار براہ راست ملوث تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیربلوچ کو 2006 میں ٹھٹھہ کےعلاقےچوہڑ جمالی سےگرفتار کر کے 7 کیسز میں چالان کیا گیا اور پھر وہ دس ماہ بعد جیل سے رہا ہوا۔

لیاری آپریشن کے دوران عزیر بلوچ نے اپنے استاد ’تاجو‘ کو دبئی اور پھر افریقہ منتقل کروایا جبکہ 10سےزائد کارندوں کو ایران اور دیگرممالک بھی بھیجا، اسی طرح ملزم نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے گینگ وار کے لڑکوں کی مدد کرنے کے لیے افسران کی تقرریاں بھی کروائیں۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ عزیر بلوچ نے 8 سے زائد پولیس افسران کو مختلف مقامات پر تعینات کروایا، لیاری ٹاؤن کا سابق ایڈمنسٹریٹر 2009 میں 2 لاکھ روپے بھتہ ہر مہینے باقاعدگی سے بھیجتا تھا جبکہ سرغنہ کی ہدایت پر گینگ وار کے کارندے مال بردار ٹرک کو لوٹتے تھے اور پھر مال فروخت کر کے 15 لاکھ روپے حصہ دیا جاتا تھا۔

جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ عزیربلوچ نے گینگ وار کے لیے اسلحے کی خریداری لالہ توکل اور سلیم پٹھان نامی لوگوں سے کی، 2009 کے بعد اسلحہ خرید کر اپنے ساتھیوں کو فراہم کیا، رحمان ڈکیت کے بعد عزیربلوچ نے فشنگ بوٹ مالکان سے بھی بھتہ وصول کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عزیربلوچ نے ایران سے پیدائشی سرٹیفیکٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیا، ایران سے بوگس شناختی دستاویزات بنوانےمیں عائشہ نامی خاتون نے معاونت فراہم کی۔

July 3, 2020

کورونا وائرس ۔ ناسا کی منفرد ڈیوائس۔کیسے کام کرتی ہے۔دیکھیے

جدت ویب ڈیسک ::امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو نوول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکے گی۔
ناسا کی جیٹ پروپلسیون لیبارٹری نے ایک نیکلس یا ہار تیار کیا ہے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ اپنے چہرے کو چھونے جارہے ہیں۔اس ڈیوائس کو پلس (Pulse) کا نام دیا گیا ہے اور اسے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کیا گیا۔اس میں ایک سنسر لگایا گیا ہے جو اس وقت ارتعاش یا وائبریشن پیدا کرتا ہے جب ہاتھ چہرے کی جانب بڑھتے ہیں۔ہاتھ چہرے کے جتنا قریب ہوگا ارتعاش اتنا زیادہ طاقتور ہوگا۔
ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘اس ویئرایبل ڈیوائس کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم از کم کرنے میں مدد دینا ہے، جو اس وقت پھیلتا ہے جب کوئی فرد کسی آلودہ سطح کو ہاتھوں سے چھوتا ہے اور پھر اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو چھوتا ہے’۔بیان میں مزید بتایا گیا ‘اس ڈیوائس سے لوگوں کو اندازہ ہوسکے گا کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چہرے کو دن بھر میں کتنی بار چھوتے ہیں، یہ ایسا لاشعوری رویہ ہے جس پر کوئی غور بھی نہیں کرتا’۔امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائس کم قیمت اور آسانی سے کوئی بھی تیار کرسکتا ہے۔اس کو تیار کرنے کا طریقہ کار اور پرزوں کی فہرست اوپن سورس فراہم کی گئی ہے اور کوئی بھی مفت ان کی مدد سے اس ڈیوائس کو تیار کرسکتا ہے۔دہگر ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ایپل، سام سنگ اور گوگل سمیت دیگر کی جانب سے بھی ڈیوائسز میں ایسی اپ ڈیٹس کی جارہی ہیں جن کا مقصد کووڈ 19 کے پھیلاؤ میں کمی لانا ہے۔سام سنگ اور گوگل نے اسمارٹ واچز کے لیے ہاتھ دھونے کے حوالے سے ٹائمر پیش کیے ہیں جبکہ ایپل نے اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران متعدد فیچرز متعارف کرائے جن میں سے ایک ایپل واچ میں ہینڈ واش ٹائمر بھی تھا۔خیال رہے کہ گھر سے باہر فیس ماسک کا استعمال، عام استعمال کی اشیا کو اکثر صاف کرنا، ہاتھوں کو اکثر دھونا اور اپنے منہ کو کم از کم چھونا کورونا وائرس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

— فوٹو بشکریہ ناسا

July 3, 2020

وی پی این رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ

ویب ڈیسک ::پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کاروباری اداروں اور عام افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وی پی این ایس رجسٹریشن کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
اب صارفین 31 جولائی تک رجسٹریشن کراسکیں گے۔
گزشتہ مہینے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ملک میں انٹرنیٹ پر ہر طرح کے مواد تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) سافٹ ویئر استعمال کرنے والے صارفین کو رجسٹریشن کے لیے 30 جون تک مہلت دی گئی تھی، تاہم اب اس مدت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
بیان میں انٹرنیٹ صارفین کو تجویز دی گئی کہ وہ اپنے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے 31 جولائی تک وی پی این کی رجسٹریشن کروالیں، جبکہ متعلقہ معلومات کے لیے ای میل ایڈریس ipreport@pta.gov.pk پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔