July 18, 2019

کلبھوشن قونصلر رسائی کا مستحق نہیں, پاکستان کے ایڈہاک جج کا اختلافی نوٹ

دی ہیگ (جدت ویب ڈیسک )پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی نے کلبھوشن جادیو کیس کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا جس کے مطابق نہتے پاکستانیوں کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنانے والا بھارتی دہشت گرد کلبھوشن جادیو کسی قونصلر رسائی کا مستحق نہیں۔
عالمی عدالت میں بھارت کا وکیل ہریش سالو یہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا کہ کلبھوشن جاسوس نہیں ۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی نے کمانڈر کلبھوشن کو نیوی کا حاضر سروس افسر ،جاسوس اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ثابت کردیا،پاکستانی وکیل نے تاریخی عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے ۔
پاکستانی وکیل نے بین الاقوامی قانون کے پیرائے میں ثابت کیا کہ جاسوس اور تخریب کار کو قونصلر رسائی کا حق حاصل نہیں ، پاکستانی وکیل نے امریکہ اور روس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کی مثال دی۔
امریکا اور روس کے مابین تحویل مجرمان کے دوران قونصلر رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ بھارت 60 سالہ تاریخ میں عالمی عدالت سے ویانا کنونشن کے تحت ایسی رعایت مانگنے والا پہلا ملک ہے۔پاکستان اور بھارت کے مابین 1982 اور 2008 کے در طرفہ معاہدے موجود ہیں۔
ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی فراہم کربھی دی جائے تو بھی رہائی یا مقدمہ ختم ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
بھارت 2017 تک کمانڈر کلبھوشن یادیو کو اپنا شہری ماننے کو ہی تیار نہ تھا۔قونصلر رسائی مانگنے سے قبل بھارت کو یہ تسلیم کرنا تھا کہ کلبھوشن ان کا شہری ہے۔بھارتی شہری کلبھوشن یادیو ہے یا حسین مبارک پٹیل، شناخت مبہم ہے،جب شناخت ہی واضح نہیں تو قونصلر رسائی کیسے دی جائے۔
پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی کا فیصلے پر اختلافی نوٹ سامنے آ گیا ، جسٹس تصدق جیلانی کہتے ہیں ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا ،
بھارتی درخواست قابل سماعت قرار نہیں دی جانی چاہیے تھی ،بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔

July 18, 2019

ایس ای سی پی کو چھاپے کے دوران کھڑکی دروازہ توڑنے کا اختیار حاصل

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے دفاتر اور عمارتوں پر چھاپے کے قوانین جاری کردیے، ایس ای سی پی کسی عمارت میں داخل ہونے کے لیے کھڑکی اور دروازہ توڑ سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے دفاتر اور عمارتوں پر چھاپے کے قوانین جاری کردیے، ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایس ای سی پی چھاپہ مارتے وقت مقامی پولیس کو ساتھ رکھے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چھاپے سے پہلے مقامی مجسٹریٹ سے اجازت لینا لازمی ہوگا، چھاپے میں تحویل میں لی گئی اشیا اور کاغذات کی فہرست تیار کی جائے گی اور فہرست ایس ای سی پی کے علاقائی دفاتر اور ملزم کو دی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایس ای سی پی الیکٹرونکس اشیا کو قبضے میں لینے کا اختیار رکھتا ہے، انکوائری افسر کے ساتھ ایس ای سی پی کے 2 افراد گواہی کے لیے موجود ہوں گے۔ ایس ای سی پی کسی عمارت میں داخل ہونے کے لیے کھڑکی اور دروازہ توڑ سکتا ہے۔
ایس ای سی پی ضبط اشیا غیر ضروری ہونے کی صورت میں مالکان کو واپس کرنے کا پابند ہوگا، مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر 1 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ قوانین کی خلاف وزری جاری رہنے پر 1 لاکھ روپے روزانہ جرمانہ ہوگا۔

July 18, 2019

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل (پی ایس او) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹرعمران الحق کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ

جدت ویب ڈیسک ::ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر عمران الحق کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب نے مذکورہ افراد کے وارنٹ گرفتاری پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔مفتاح اسماعیل اور عمران الحق شیخ کو بھی آج نیب آفس طلب کیا گیا تھا تاہم وہ بھی پیش نہیں ہوئے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے تب انہوں نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدنی تھی جو پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔
سابق وزیر اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکہ دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔
جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی۔
ترجمان نیب کے مطابق مذکورہ ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لیے ٹھیکے دینے اور مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

July 18, 2019

جس نے ماضی میں جو کیا وہ بھگتے گا ، وزیر داخلہ اعجاز شاہ

کراچی، جدت ویب ڈیسک ) وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ماضی میں جوکیا ، وہ بھگتے گا ۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نیب آزاد ادارہ ہے ،آصف زرداری نے کہا تھا اس طرح تو ہوتا ہے ، اسطرح کے کاموں میں ۔
اعجاز شاہ نے کہا کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے جنہوں نے کام خراب کیا، انہیں گرفتار ہونا چاہئے ،تحریک انصاف کے لوگ بھی پکڑے گئے ہیں ،ہر کسی کا حق ہے کہ احتجاج کرے ، لیکن حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں کی املاک کا تحفظ کرے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان فرنٹ فٹ پر ہیں ،وزیر اعظم وہ کام کریں گے جو قوم کے مفاد میں ہوگا،پاکستان کی پالیسی میں بہت تبدیلی آئی ہے جس کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو جاتا ہے ،اگر احتجاج کے دوران کوئی شخص حکومتی اور شخصی املاک کو نقصان پہنچاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کردار ادا کریں گے

July 18, 2019

نیب نے شہباز شریف اور فیملی کی جائیدادیں منجمد کرنا شروع کردیں

جدت ویب ڈیسک ::نیب نےاپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی شہباز شریف اوران کی فیملی کی جائیدادیں منجمد کرنےکاعمل شروع کردیاہے،32 منقولہ وغیرمنقولہ جائیدادیں منجمدکرنے کے لیے مراسلے تحریر کر دیے گئے ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی جائیدادیں منجمد کرنے کا عمل شروع ہو گیا، ایس ای سی پی کو شہبازشریف کی 14 کمپنیاں منجمد کرنے کے لیےمراسلہ لکھاگیاہے۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی ‏ منقولہ وغیرمنقولہ ‏ ایس ای سی پی ‏ رمضان شوگر ملز ‏ یورپین ایشین ٹریڈنگ کارپوریشن ‏ مدینہ ٹریڈنگ ‏ شریف فیڈملز مدینہ کنسٹرکشن کمپنی ‏ شریف پولٹری فارمز شریف ڈیری فارمز ‏ رمضان انرجی ‏ شریف ملک پروڈکٹس ‏ کرسٹل پلاسٹک ‏ چنیوٹ پاور لمیٹڈ ‏ اے جی انرجی کنسلٹنٹس ‏ العریبیہ شوگر ملز ‏ یونیٹاس پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ‏۔۔۔۔۔۔
ان کمپنیوں میں رمضان شوگر ملز ، یورپین ایشین ٹریڈنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ ، مدینہ ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ ، شریف فیڈملزپرائیویٹ لمیٹڈ ، مدینہ کنسٹرکشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ ، شریف پولٹری فارمزپرائیویٹ لمیٹڈ ، شریف ڈیری فارمز پرائیویٹ لمیٹڈ ، رمضان انرجی لمیٹڈ ، شریف ملک پروڈکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ ، کرسٹل پلاسٹک پرائیویٹ لمیٹڈ ، چنیوٹ پاور لمیٹڈ ، اے جی انرجی کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ ، العریبیہ شوگر ملز لمیٹڈ اور یونیٹاس پاور پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں ۔
نیب نے ڈی ایچ اے لاہور کو شہبازشریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کے نام فیزفائیو کے ، اے بلاک میں واقع دوگھر 8/7 اور 8/8 منجمدکرنے کے لیے مراسلہ لکھا ہے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کے بلاک ، جوہرٹاؤن میں واقع شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کے نام 9 پلاٹ بھی منجمد کرنے کامراسلہ جاری کردیاگیا ، ان پلاٹوں میں جوہر ٹاؤن کے بلاک میں واقع پلاٹ نمبر 61 اے ، پلاٹ نمبر 62، 63، 64، 65، 68، 69، 70 اور 71 شامل ہیں ۔
نیب نے سیکریٹری ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور کو شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام ایچ بلاک میں واقع پلاٹ نمبر 87، اور پلاٹ نمبر 96 منجمد کرنے کے لیے خط لکھا ہے ۔
بے نامی جائیداد رکھنے والے لاہور کے 45افراد کو نوٹسز بھجوانے کا فیصلہ
جوڈیشل ایمپلائز کواپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی میں چارپلاٹ منجمد کرنے کے لیےخط لکھا گیاہے ۔ ان پلاٹوں میں فیز ون میں واقع ایک کنال 5 مرلہ کا پلاٹ نمبر 48 ، ایک کنال اور 4 مرلہ سے زائد رقبہ کا پلاٹ نمبر 49 ، ایک کنال اور 7 مرلہ سے زائد رقبے پر مشتمل پلاٹ نمبر 50 اور ایک کنال اور 7 مرلہ سے زائد رقبے پر مشتمل پلاٹ نمبر 51 شامل ہیں ۔
نیب نے ڈی جی ایکسائز کو شہبازشریف کی دولینڈ کروزرگاڑیوں کی خریدوفروخت روکنے کامراسلہ جاری کیاہے ، ان میں لینڈ کروزر ایل ای ایف 5100 جس کی رجسٹریشن 2008 جبکہ ایک لینڈ کروزر ایل ای بی 1957 ہے جس کی رجسٹریشن 2010 کی ہے ۔
نیب نے ڈی سی ہری پورکوبھی شہبازشریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کے نام تین جائیدادیں منجمدکرنے کے لیے مراسلہ جاری کیاہے ، ہری پور میں شہباز شریف کی جائیدادوں میں پیر سوہاوہ میں واقع ایک کاٹیج ، پیرسوہاوہ میں واقع ایک ولاز ،اور پیر سوہاوہ میں ہی واقع ایک 6 مرلے کا پلاٹ شامل ہے ۔
نیب نے ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کے نام 9 کنال سے زائد رقبے پر محیط نشاط لاجز ، ڈونگا گلی کو بھی منجمد کرنے کا مراسلہ ارسال کر دیا ۔
شہبازشریف اوران کے اہل خانہ ان جائیدادوں کو نہ توفروخت کرسکیں گے اور نہ ہی کسی کومنتقل کرسکیں گے۔

July 17, 2019

پاکستان کی جیت عالمی عدالت میں بھارت ہار گیا۔کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

جدت ویب ڈیسک ::کلبھوشن جادھو کیس کے فیصلے میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔ عالمی عدالت نے دہشتگرد کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کر دی۔
پاکستان میں بھارتی دہشتگرد نیٹ ورک کا سرغنہ،سینکڑوں پاکستانیوں کا قاتل، را کا جاسوس اور انڈین نیوی کا حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو، 3 مارچ 2016 کو پاک، ایران سرحدی علاقے سے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا۔
را کے ایجنٹ کیخلاف 8 اپریل 2016 کو ایف آئی آر درج ہوئی ،اپنے جرائم کا اعتراف کرنے پر 10 اپریل 2016 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت اسے سزائے موت سنائی گئی۔
بھارت نے مئی 2017 کو اپنے دہشتگرد، جاسوس اور حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا ، عالمی عدالت کے جج رونی ابراھم کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے 15 مئی 2017 کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا۔
اپنے دلائل میں بھارتی وکیل ہریش سالوے نے اپیل کرتے ہوئے کہا عدالت بھارتی شہری کلبھوشن یادیو پر بیتنے والے صدموں کو مد نظر رکھتے ہوئے رہائی کا حکم دے جبکہ اس سے پہلے بھارت کا اصرار تھا کہ يادیو جاسوس نہيں ہے اور اسے پاکستان ميں اغواء کيا گيا مگر اپنے دعوے کو ثابت نہیں کر سکا۔
بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن بحریہ سے ریٹائرڈ ہوچکا ہے، کلبھوشن انڈین نیوی سے کب ریٹائرڈہوا؟، صرف 47 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کیوں لی؟،اگر کمانڈر کلبھوشن ریٹائرڈ ہوا تو پنشن بک اوربینک ٹرانزیکشنز کہاں ہیں؟، کوئی بھی دستاویز عدالت میں جمع کرانے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کام لیا گیا۔
بھارتی دہشتگرد سے برآمد ہونے والے پاسپورٹ کو برطانوی فرانزک ماہرین نے اصلی اور شناخت جعلی قرار دے کر بھارت کے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا۔
بھارت کی طرف سے کلبھوشن کا معاملہ 14 ماہ بعد عالمی عدالت انصاف میں لے جانے پر پاکستان نے اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں ماہرین کی ٹیم تشکیل دی تھی۔
پاکستانی ٹیم میں بطور ایجنٹ ڈاکٹر محمد فیصل، بطور وکیل خاور قریشی ، بطور جونیئر وکیل اسد رحیم خان، بطور قانونی معاون جوزف ڈائیک، متحدہ عرب امارات اور ہالینڈ میں سفرا بطورمشیر شامل تھے۔
عالمی عدالت انصاف میں 18 فروری 2019 کو بھارت، 19 فروری کو پاکستان کے وکلاء نے 3، 3 گھنٹے دلائل دیے۔ 20 اور 21 فروری کو دونوں فریقین نے ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ تک جوابی دلائل دیے۔

July 17, 2019

جج ارشدملک بلیک میلنگ اسکینڈل کے مرکزی ملزم میاں طارق کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کرلیا

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::جج ارشدملک بلیک میلنگ اسکینڈل میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے ، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو بنا نے والے میاں طارق کو حراست میں لے لیا گیا۔
تفصیلا ت کے مطابق جج ارشدملک بلیک میلنگ اسکینڈل کے مرکزی ملزم میاں طارق کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کرلیا ہے ، میاں طارق دبئی فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم میاں طارق کی گرفتاری عین اس لمحے عمل میں آئی جب وہ ملک چھوڑ کرفرار ہونے کی کوشش کررہے تھے، گرفتاری کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت پیش کیا گیا۔
عدالت میں پیش کرنے کے لیے میاں طارق کو انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں بکتر بند گاڑی کے ذریعے سول کورٹ لایا گیا، جہاں عدالت نے ان کا دوروزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے انہیں ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق طارق محمود کا بڑا بھائی میاں ادریس اسمگلنگ کیس میں گرفتار رہ چکا ہے، میاں طارق کے پاس کئی اہم شخصیات کی مبینہ ویڈیوزبھی موجود ہیں، ویڈیو منظرعام پرآنے کے بعد جج ارشد ملک میاں طارق سے ملنے ملتان بھی آئے تھے۔خیال رہے کہ میاں طارق محمود ہر دور میں اعلیٰ افسران وسیاسی شخصیات سےرابطےمیں رہے ہیں، میاں طارق محمود کو تعلقات بنانے کا ماہر بھی سمجھا جاتا ہے۔یاد رہے کہ میاں طارق محمود ملتان کا رہائشی ہیں، میاں طارق کی فوارہ چوک کے قریب طارق ٹی وی سینٹر کے نام سے دکان ہے، طارق محمود کو معاملات طے کرانے میں ماہر سمجھا جاتا ہے، اسی شخص نے جج کی ملتان میں تعیناتی کےدوران مبینہ ویڈیو حاصل کی، طارق محمود اسمگل شدہ ٹی وی، ایل ای ڈیز کی خرید و فروخت میں بھی ملوث ہیں۔

Related image

Image result for tariq malik arrest by FIA