June 15, 2018

شاہد آفریدی کے گھر شیرکیوں تھا؟ صوبائی محکمہ وائلڈ لائف نے انکوائری شروع کردی

جدت ویب ڈیسک ::شاہد آفریدی کے گھر شیر رکھنے پر صوبائی محکمہ وائلڈ لائف نے انکوائری شروع کردی ہے۔  محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق شیر شاہد آفریدی کا تھا یا نہیں، ان کے گھر کیوں لایا گیا؟ اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گے۔ محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے کنزرویٹیو افسر تاج شیخ کا کہنا ہے کہ عید کے بعد تحقیقات مکمل ہونے پر ایکشن لیں گے۔ دوسری جانب شاہد خان آفریدی کا کہنا ہے کہ شیر ان کا نہیں ہے بلکہ دوست چند گھنٹوں کے لیے میرے گھر لایا تھا اور شیر کے گلے میں زنجیر احتیاطاً ڈالی گئی تھی…….گزشتہ دنوں شاہد خان آفریدی نے بیٹی کے ہمراہ دو تصاویر ٹوئٹ کی تھیں جس میں سے ایک تصویر میں وہ ہرن کے بچے کو دودھ پلارہے تھے جب کہ دوسری تصویر میں شیر زنجیروں میں بندھا ہوا تھا۔سابق کپتان کی جانب سے جانوروں کی دیکھ بھال کا پیغام دیا گیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

June 15, 2018

مسجد الحرام اورمسجد نبوی میں نمازِعید کی ادائیگی‘15لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے

مکہ مکرمہ/مدینہ منور جدت ویب ڈیسک :مسجد الحرام اورمسجد نبوی میں نماز عید کی ادائیگی کے کئے15 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک ،انڈو نیشیا میں بھی جمعتہ المبارک کے روز عید الفطر منا ئی گئی ۔سعودی عرب کے شاہ سلمان نے مسلم امہ کو عید کی مبارکباد کے پیغام میں کہا ہے کہ عیدخوشیوں کا دن ہے عید رواداری اور یکجہتی کا پیغام لاتی ہے۔ مکہ مکرمہ سے جاری پیغام میں شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے، مسلمانوں کے حالات ہر جگہ بہتر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عید کو خوشیوں کا دن بنایا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ عید رواداری اور یکجہتی کا پیغام لاتی ہے، اللہ مذہب اور وطن کی خاطر شہید ہونے والوں پر رحم کرے۔شاہ سلمان نے مملکت اور دنیا بھر کو برائی سے بچانے کی بھی دعا کی ۔برطانیہ ،فرانس ،بیلجئیم سمیت یورپ اور امریکامیں مسلم کمیونٹی کی اکثریت نے جمعتہ المبارک کو عید منائی ۔ترکی میں بھی جمعہ کو عیدالفطر منائی گئی ۔فرانس اور آسٹریلیا میں اس سال بھی دو عیدیں منائی گئیں ۔ پیرس کی جامع مسجد نے جمعہ کو عید منانے کااعلان کیا جبکہ فقہ جعفریہ کے تحت عیدہفتہ 16 جون کو ہوگی ۔

June 15, 2018

داعش کی فٹبال ورلڈ کپ پر حملوں کی تازہ ترین دھمکی

لندن جدت ویب ڈیسک :داعش نے فٹبال ورلڈ کپ پر حملوں کی تازہ ترین دھمکی دے دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کا روس اور سعودی عرب کے درمیان میچ سے آغاز ہوچکا ہے، ایونٹ کے حوالے سے پہلے سے ہی کئی خدشات ظاہر کیے گئے تھے جس کی وجہ سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، اب داعش نے میگا ایونٹ پر حملوں کی تازہ ترین دھمکی دے دی اور اس حوالے سے چند پوسٹرز بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں سوچی کے ایک اسٹیڈیم کو شعلوں میں گھرا ہوا دکھایا گیا۔ایک جگہ پر فرنچ زبان میں لکھا گیا کہ ” ان سب کو قتل کردیں گے“ ساتھ میں ٹورنامنٹ کے ایک لوگو کو چھری سے2 ٹکڑے کرتے ہوئے دکھایا گیا، پس منظر میں ایک اور روسی اسٹیڈیم موجود ہے۔ تیسری تصویر میں ایک مسلح شخص کو دکھایا گیا جس کا کیپشن تھا کہ ’ دہشت کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ چوتھے میں 2013 کی بوسٹن میراتھن میں ہونے والے بم دھماکے کا کلپ شامل ہے۔یاد رہے کہ مئی میں بھی اسی تنظیم کی جانب سے ایک خوفناک پوسٹر جاری کیا گیا تھا جس میں نامور فٹبالرز لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے سر تن سے جدا کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس میں دونوں اسٹارز گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھے ہوئے جبکہ ان کے سروں پر 2افراد تلواریں لیے موجود تھے۔ اس کے ساتھ کیپشن تھا کہ ہم اسٹیڈیم کو تمھارے خون سے بھر دیں گے۔ ایک جگہ پر تنظیم کی جانب سے یہ بھی پیغام دیا گیا کہ فیفا ورلڈ کپ 2018 جس میں کامیابی ہماری ہوگی۔

June 15, 2018

افغان وزارت دفاع نے ملا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی

کابل جدت ویب ڈیسک :: افغان وزارت دفاع نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مقامی حکام اس خبر کی تصدیق کررہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 جون کو ہونے والے ڈرون حملہ کا ہدف ملا فضل اللہ تھے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل کے وائس آف امریکا کو بتایا کہ 13 جون کو امریکی فورسز نے صوبہ کنٹر میں ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک دہشت گرد تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔ماضی میں بھی ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہیں۔یہ خبر ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔
تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حملے کا ہدف ملا فضل اللہ ہی تھے۔