September 16, 2019

سندھ کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی، آئی جی سندھ سپریم کورٹ میں طلب

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::سپریم کورٹ نے منشیات کے استعمال سے متعلق سندھ حکومت کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کو عدالت میں طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ میں منشیات سے متعلق رپورٹ مسترد کر دی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سندھ حکومت کی اس رپورٹ سے اتفاق نہیں کرتے، کراچی منشیات فروخت اور استعمال میں دنیا میں دسویں نمبر پر ہے، کیا آئی جی سندھ نے ان حقائق کو چیک کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر کے رپورٹ طلب کرلی۔
خیال رہے کہ چند روز قبل جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی دنیا میں سب سے زیادہ چرس استعمال کرنے والے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔
تحقیق کے مطابق کراچی میں سالانہ 42 ٹن چرس پی جاتی ہے۔ فہرست میں امریکی شہر نیویارک پہلے اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔

September 13, 2019

کراچی، پولیس کی کارروائی، ضبط قیمتی شراب چوری میں ملوث کسٹمز ملازم سمیت 2 افراد گرفتار

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::شہر قائد کے علاقے شیرشاہ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شراب چوری میں ملوث کسٹمز ملازم سمیت 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق شیرشاہ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے شراب چوری میں ملوث کسٹمز ملازم سمیت 2 افراد کو حراست میں لے لیا، گرفتار کسٹم ملازم نے دوران تفتیش حیران کن انکشافات کیے ہیں۔
ایس ایس پی ویسٹ شوکت کھٹیان کے مطابق کسٹم ویئر ہاؤس کے 7 ملازم کئی سال تک شراب چوری کرتے رہے، چوری کی گئی شراب ماہانہ لاکھوں روپے میں فروخت کی جاتی تھی۔
ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا ہے کہ شراب سپلائی کے لیے یونس کو عارضی طور پر ایک رکشہ دیا جاتا تھا، گرفتار ملزمان میں سرغنہ یونس، ساتھی خالد شامل تھے۔
شوکت کھٹیان کے مطابق ماسٹر مائنڈ یونس کسٹمز ویئر ہاؤس میں بطور چوکیدار ملازمت کرتا ہے، ملزم کو 83 غیرملکی شراب کی بوتلوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ ایس ایس ویسٹ کا کہنا ہے کہ یونس سمیت کسٹمز کے 7 ملازمین شراب چوری میں ملوث ہیں، یونس کے ہمراہ گرفتار ملزم خالد ڈیفنس، کلفٹن میں شراب کا بروکر ہے۔
شوکت کھٹیان کا کہنا ہے کہ شراب بروکر خالد کسٹمز کے سرکاری فلیٹ میں ہی رہتا ہے، کسٹم ملازمین میں مومن خان، شیر ولی، غلام حبیب، سہیل، فیصل شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم یونس کے مطابق 2 سال سے زائد عرصے سے یہ کام کررہا تھا، ملزم یونس کو یاد نہیں کہ وہ آج تک کتنی شراب فروخت کرچکا ہے، گرفتار ملزمان کے دیگر 6 ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔

September 11, 2019

گورنرسندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کی مزارقائد پر حاضری۔قائد اعظمؒ کی 71ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ تشخص، الگ پہچان اور ایک آزاد ملک کا تحفہ دینے والے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 71 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔قائد اعظم کی برسی کے موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نےمزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
تفصیلات کے مطابق بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 71ویں برسی ملک بھر میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے، قائداعظم کے یوم وفات پر گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے مزار قائد پر حاضری دی۔
مزار قائد پر حاضری کے بعد گورنر سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ر ہے گا۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، 18ویں ترمیم کو چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی کے مسائل پرقائم کمیٹی 10 سے 12 دن میں رپورٹ پیش کرے گی، کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ہوگی تو مسائل میں کمی آئے گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قائداعظم کی مدبرانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے، پاکستان کو پرامن بنانے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پوری قوم کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے، ہمیشہ ساتھ رہے گی۔

September 5, 2019

سندھ پولیس میں پہلی ہندو خاتون اے ایس آئی تعینات

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::پاکستان میں سرکاری نوکریوں پر اقلیتیں کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جو بڑے عہدے پر فائز ہوں لیکن اب سندھ پولیس میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں رہائش پذیر ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادہ تر میڈیکل کی شعبے سے وابستہ ہیں لیکن اب سندھ پولیس میں پہلی بار ہندو خاتون کو اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔
ہندو خاتون پشپا کماری ہمیشہ سے سندھ پولیس میں بھرتی ہونے کا خواب تو نہیں دیکھتی تھیں، لیکن انہوں نے سن 2014 میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے کری ٹیکل کیئر میں گریجویشن مکمل کیا تھا، پشپا کوہلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔مجھے دیکھتے ہوئے دیگر خاتون بھی کیریئر کے انتخاب میں ہمت کرتے ہوئے پولیس، فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ میں شامل ہوں گی
پشپا کماری اس سے قبل بینظیر بھٹو ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سینٹر میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ٹیکنولوجسٹ کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں پھر انہوں نے کسی دوسرے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔
پشپا کماری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کثیر تعداد میں ہندو لڑکیاں میڈٰیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر میں اب کچھ نیا کرنا چاہ رہی تھی اس لیے میں نے پبلک سروس کمیشن میں پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے پیپر دئیے۔
پشپا نے 2018 میں اے ایس آئی کی آسامی کے لیے اپلائی کیا اور جنوری 2018 میں تحریری امتحان پاس کیا اس کے بعد پشپا کو فائنل انٹرویو کے لیے کال آئی۔
فائنل انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کے دو ہفتے بعد کامیاب امیدواروں کی فہرست آویزاں کی گئی جس میں پشپا کماری کا نام بھی موجود تھا۔
کرمنالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس پی بننا چاہتی ہوں .پشپا کماری کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس میں ہندو خواتین تو موجود ہیں لیکن وہ کانسٹیبل کے عہدے پر ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں میں پہلی خاتون ہوں جس نے اے ایس آئی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔
ہندو خاتون پشپا کا کہنا تھا کہ ان کا خواب اے ایس آٗئی تک ہی محدود رہنا نہیں ہے بلکہ وہ کرمنالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر کام کرنا پسند کریں گی۔
پشپا کماری کا کہنا تھا کہ میرے پولیس میں شامل ہونے کے بعد دیگر خواتین کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ اپنے کیریئر کے انتخاب میں ہمت کرتے ہوئے پولیس، فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ میں شامل ہوں گی۔

Image result for pushpa kumari sindh police

September 5, 2019

واٹس ایپ پر دوستی کا بھیانک انجام،محبت سے موت تک

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::واٹس ایپ پر دوستی کا بھیانک انجام سامنے آگیا، کراچی میں کریم آباد کی کچرا کنڈی سے ملنے والی جلی ہوئی لاش کی شناخت ہوگئی، لڑکا سعودی عرب سے محبت کی خاطر کراچی آیا تھا، نوجوان کے قتل میں اس کی محبوبہ ملوث نکلی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں کریم آباد کی کچرا کنڈی سے 3 ماہ قبل ملنے والی جھلسی ہوئی لاش کا معمہ حل ہو گیا، قاتل حسینہ شبانہ نے محبت کے جال میں پھنسا کر 27 سالہ حمزہ کو سعودی عرب سے کراچی بلایا تھا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ شبانہ نے 26 رمضان کوحمزہ کو سعودیہ سے کراچی بلایا اور لیاقت آباد میں کرائے کا گھر لیا جہاں شبانہ بھی چار دن مقیم رہی۔پیسوں کی لالچ میں ملزمہ نے عید الفطر کی چاند رات حمزہ کو نیند کی گولیاں کھلائیں اور گلے میں پھندا ڈال کر موت کے گھاٹ اتارا۔
واردات کے بعد ملزمہ نے اپنے پرانے ساتھی و گینگ وار کارندے خلیل کو بلایا جو لیاقت آباد میں شیلٹر ہوم چلاتا ہے۔خلیل ایمبولینس لایا جس میں لاش ڈال کر کچرا کنڈی میں پھینکی گئی، عید کے روز لاش کچرے میں پڑی رہی جس پر دوسرے دن ملزمان نے پٹرول چھڑک کرآگ لگائی۔
تحقیقاتی اداروں نے ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں چھاپہ مار کر ملزمہ شبانہ اور گینگ وار کارندے خلیل کو گرفتار کیا تو دونوں نے اعتراف جرم کر لیا۔مقتول علی حمزہ گجرنوالہ کا رہاشی ہے جو سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا ۔ملزمہ شبانہ ساتھی ملزم خلیل کے ہمراہ واردات کے بعدفرار ہوئی، قتل کی واردات سے قبل ملزمہ نے عاشق کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔لاش کی شناخت مقتول کے ایک دانت کی مددسے ہوئی۔ ملزمہ شبانہ کاآبائی تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے، ملزمان سے تحقیقات کاسلسلہ جاری ہے۔

 

September 5, 2019

شہر قائدمیں آج بھی موسم گرم اورمرطوب رہے گا، محکمہ موسمیات

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں آج بھی موسم گرم اور مرطوب رہے گا ، شہرکا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کا موجودہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ، ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ہے، جنوب مشرق سے ہوا 7 ناٹیکل مائیل کی رفتارسے چل رہی ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ لاہور اور گردو نواح میں ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے حبس اور گرمی کی شدت میں کمی ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آج بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا تاہم راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، میرپور خاص اور کشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا تاہم مالاکن، مکران، سکھر میں بارش ریکارڈ کی گئی۔

September 4, 2019

علی زیدی نے مزید گندگی پھیلا دی، سعید غنی کا الزام

کراچی: جدت ویب ڈیسک :: وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ علی زیدی نے کراچی کو صاف کرنے کے بجائے مزید گندگی پھیلا کر سندھ حکومت کے لیے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کراچی کی صفائی کے بجائے مزید گندگی بڑھا دی ہے، سنا ہے علی زیدی جلدی تھک گئے ہیں اور اب مہم روک دی ہے۔ کہا کہ شہر قائد کی صفائی کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور میرے کئی اجلاس ہوئے، ہم نے ڈی ایم سی کی مدد کرنا شروع کی جس سے حالات بہتر ہوئے، شہر میں بارش ہوئی، عید پر قربانی ہوئی، آلائشوں کے مسائل تھے لیکن اسی دوران علی زیدی میدان میں آ گئے شہر کو مزید گندا کر دیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب ہمیں شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے اضافی اقدام لینے پڑ رہے ہیں اور جلد ہی مہم شروع کی جائے گی۔ کراچی میں واقعی سیوریج کے مسائل ہیں بارش میں مٹی، پتھر، پلاسٹک سمیت دیگر اشیا نالوں میں جانے سے لائن چوک ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں کہتا رہا سیوریج لائنوں سے رضائیاں، تکیہ نکلیں گے جو اب تو ریحان ہاشمی کے علاقے سے بھی نکل رہے ہیں، پہلے ایم کیو ایم یہ کام کرتی تھی لیکن اب تو نامعلوم افراد بھی میدان میں آ گئے ہیں۔

September 3, 2019

وہ لوگ کہاں ہیں جو کتے پکڑتے تھے؟

کراچی جدت ویب ڈیسک ::سندھ میں کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی ویکسین کی عدم دستیابی کے معاملے کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کمشنر کراچی، کے ایم سی، سندھ حکومت اور دیگر اداروں پر برہم ہوگئی۔
سندھ ہائیکورٹ نے کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی ویکسین کی عدم دستیابی پرایڈیشنل سیکرٹری بلدیات، ایڈیشنل سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر مونسپل کمشنر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے فریقین کو 25 ستمبر کو خود پیش ہوکر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیاہے۔درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے کی ۔
دوران سماعت انہوں نے ریمارکس دیے کہ تین افسران کو عدالت بلا کر کھڑا کردیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا،پہلے تو کے ایم سی والے شہر سے کتے پکڑ کرلے جاتے تھے، اب وہ لوگ کہاں ہیں جو کتے پکڑتے تھے؟
درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے ویکسین ہی موجود نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ تک 92 ہزار افراد کو کتوِں نے کاٹاہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے پاس 6 لاکھ وائلز ویکسین بنانے کی صلاحیت ہے لیکن وہ بھی اسپتالوں کو ویکسین فراہم نہیں کررہے۔
ویکسین نہ ہونے سے سندھ میں بچے مررہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔عدالتی نے سماعت کے دوران حکم دیا کہ صوبے میں یہ مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، کسی کو ذمہ داری لینا ہوگی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 25ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔