November 14, 2018

شہر قائدکے اسکول اور کالج تباہی کا شکار بیشتر تعلیمی اداروں کا وجود ہی ختم ہوگیا

کراچی جدت ویب ڈسیک) محکمہ تعلیم سندھ کے کاغذوں میں سب کچھ اچھا، در حقیقت صورتحال شرمناک ہے، کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار قابل بیان نہیں۔سندھ میں بیشتر تعلیمی ادارے وینٹی لیٹر پرہیں جبکہ کچھ کا وجود ہی ختم ہوگیا ہے۔ بعض ادارے نازک حالت کا سامنا کررہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں چھ ہزار سے زائد اسکولز بند پڑے ہیں یا پھر مختلف بااثر افراد کے گودام یا گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔جیکب لائن کراچی کا اسکول جو انیس سو چھیانوے میں قائم ہوا تاہم چھ سال بعد دو ہزار دو میں ہی اپنا وجود کھو بیٹھا۔ یہ ہی نہیں درجنوں اسکولز اور کالجز بھی کھنڈر کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔
ادھر بعض درسگاہوں میں تعمیراتی شروع تو ضرور ہوا لیکن ٹھیکیدار ادھورا کام چھوڑ کر نو دو گیارہ ہوگئے، ماہر تعلیم کے مطابق سیاسی بنیاد پر قائم اسکولز کا حال ایسا ہی ہوتا ہے۔

November 13, 2018

فاروق ستار کے الزامات سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا عامر خان

کراچی جدت ویب ڈیسک :متحدہ قومی موومنٹ âایم کیو ایمá کے رہنما عامر خان نے کہا ہے کہ فاروق ستار کے الزامات سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔سندھ ہائیکورٹ میں ایک مقدمے میں پیشی کے موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما اور رابطہ کمیٹی کے رکن عامرخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایم کیو ایم کی تقسیم کا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو غلط ہے، درحقیقت ایم کیو ایم اپنی جگہ کھڑی ہے اور پارٹی کا پورا سسٹم موجود ہے۔عامر خان نے کہا کہ فاروق ستار مجھ پر الزامات لگاتے رہیں، میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عامر خان نے ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق مزید سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں اور اب جماعت کے رہنما کھلم کھلا ایک دوسرے پر الزام عائد کررہے ہیں جب کہ پارٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کی رکنیت ختم کردی ہے۔

November 12, 2018

کراچی صدر میں تجاوزات مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

جدت ویب ڈسیک ::کراچی ، تجاوزات مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن ، ایک ہزار 44 دکانیں مسمار۔۔۔۔۔علیٰ عدلیہ کے حکم پر معاشی حب کراچی میں تجاوزات مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ پانچ روز میں صدر کی ایمپریس مارکیٹ اور اطراف میں ایک ہزار 44 دکانیں مسمار کی جا چکی ہیں۔کراچی کے گنجان ترین علاقے صدر میں تجاوزات مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سڑکیں تو سڑکیں، فٹ پاتھ بھی تجاوزات سے پاک ہو گئے۔
ایمپریس مارکیٹ سمیت اطراف میں قائم مارکیٹوں کی ایک ہزار چوالیس دکانیں مسمار کردی گئیں۔ حکام کہتے ہیں ایمپریس مارکیٹ کی اصل شکل بحال کریں گے۔
لیاقت آباد، نارتھ کراچی، ملیر لیاقت مارکیٹ، اولڈ سٹی ایریا، ایف بی ایریا، بہادر آباد اور گلشن اقبال کی سڑکیں اور فٹ پاتھ بھی محفوظ نہیں۔
کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار شہر بھر میں پھیلایا جائے گا۔صدر میں تجاوزات کے خلاف تو آپریشن ہو گیا مگر پارکنگ مافیا کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی گئی جو آپریشن کی کامیابی پر سوالیہ نشان ہے۔عدالت عظمیٰ کے حکم پر صدر میں تو ایکشن دکھائی دیا تاہم دیگر علاقوں میں تاحال تجاوزات کی بھرمار ہے۔

November 12, 2018

کراچی میں مضر صحت کھانے سے جاں بحق بچوں کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی

جدت ویب ڈسیک ) کراچی میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے جاںبحق دونوں بچوں کی نمازجنازہ آج ڈیفنس میں عائشہ مسجد میں ادا کی جائے گی  دو بچوں کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔
ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بارہ کھانوں کے نمونے لیب بھجوائے گئے ہیں۔ ریسٹورنٹ کو چند روز قبل معیار کی بہتری کا نوٹس جاری کیا تھا۔
ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شیراز کے مطابق ابتدائی طور پر موت کی وجہ فوڈ پوائزننگ معلوم ہوتی ہے۔ پوسٹمارٹم رپورٹ آنے میں پانچ سے دس دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری طرف سندھ فوڈ اتھارٹی کے بورڈ کا ہنگامی اجلاس آج ہو گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ہوٹلوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا بیچنے اور تیار کرنے والوں کےلائسنس سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے اسپتال میں بچوں کی والدہ کی عیادت کی۔ کہتے ہیں تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔ زہر خورانی سمیت ہر پہلو پر تفتیش ہو گی۔
بچوں کے والد حسان لاہور سے کراچی پہنچے تو اپنے معصوم پھولوں کی لاشیں اور اہلیہ کی حالت دیکھ کر سکتہ طاری ہو گیا۔ ۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے متاثرہ گھر کا دورہ کیا اور دو افراد کے بیان قلمبند کر لئے۔ کھانے پینے کی اشیاء کے نمونے بھی ساتھ لے گئے۔

Image result for karachi 2child dead  eat food zamzama

Image result for karachi 2child dead  eat food zamzama

Image result for karachi 2child dead  eat food zamzama

November 11, 2018

کراچی کے ساحل پر تیل کے رسائو کی تحقیقات کا دائرہ وسیع

کراچی جدت ویب ڈیسک :کراچی کے ساحلی مقامات پر تیل کے پھیلائو کی تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر ناکارہ بحری جہاز یا پھر تیل بردار کشتی سے یہ رسائو ہوا ہے۔کراچی کے مختلف ساحلی مقامات اور گہرے سمندر میں تیل کے پھیلائو کا معمہ 15روز بعد بھی حل نہ ہوسکا۔ کیپ مائونٹ اور کراچی کے درمیان موجود تیل نے مبارک ولیج سمیت کئی ساحلوں کو آلودہ کردیا تھا۔ 8 ٹن استعمال شدہ تیل کا پراسرار ذخیرہ سمندر میں کس وجہ سے نمودار ہوا اس کا تعین تاحال نہیں ہوسکا۔ وجوہات جاننے کے لیے اداروں نے دو مختلف سمتوں میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ سمندر میں تیل گرانے کا ذمہ دار گڈانی یارڈ پر کٹنے والا ناکارہ بحری جہاز یا پھر تیل کو لے کر آنے والی بوٹ ہوسکتی ہے۔دبئی سے آنیوالا ال جوزہ بحری جہاز 25 اور 26 اکتوبر کے درمیان چرنا آئی لینڈ کے قریب لنگر انداز تھا جو 27 اکتوبر کو گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر کٹنے کے لیے پہنچا، حالانکہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں تیل سے بھرے ناکارہ جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ ذرائع کے مطابق ال جوزہ بحری جہاز نے بریکنگ یارڈ پر جانے سے پہلے اپنا تیل بارج بوٹ میں منتقل کیا جو استعمال شدہ تیل کی نقل وحرکت کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس میں کئی ٹینکس موجود ہوتے ہیں۔ بارج کے ذریعے کراچی منتقل کیا جانے والا تیل پگھلا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ال جوزہ سے تیل لانے کے لیے بارج بوٹ کیماڑی سے روانہ ہوئی اور ال جوزہ سے اس میں تقریبا 8 ٹن سلج تیلâاستعمال شدہáمنتقل کیا گیا۔ اس بات کا امکان ہے کہ بارج میں سوراخ کی وجہ سے تیل کا رسائو ہوا۔ تحقیقات کا دوسرا رخ ال جوزہ بحری جہاز ہے، جس سے ممکنہ طور پر سنگین غلطی سرزد ہوئی۔ ال جوزہ نامی بحری جہاز اور بارج سے تیل کے نمونے حاصل کیے جاچکے ہیں اور مختلف لیبارٹریز کو بجھوائے گئے ہیں۔ تیل کے رسائو کی تحقیقات مکمل ہونے میں مزید 10 دن لگ سکتے ہیں۔

November 11, 2018

تجاوزات کےخلاف آپریشن کے دوران1,044دکانوں کو مسمارکیاجاچکاہے،میئر کراچی

کراچی جدت ویب ڈیسک :میئر کراچی وسیم اختر نے کہاہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران1,044دکانوں کو مسمارکیاجاچکاہے، ایمپریس مارکیٹ کے اطراف کی زمین کے ایم سی نے 30سال پہلے دی تھی لیکن اب یہ معاہدہ ختم کردیا گیا ہے اور متاثرہ لوگوں کو متبادل جگہ دی جائے گی،ہم اب صدر میں کسی کو تجاوزات کی اجازت نہیں دیں گے، دکان کے اوپر صرف دکان کے بورڈ کی ہی اجازت ہو گی جو 12 انچ تک باہر ہوسکتا ہے۔کراچی ایمپریس مارکیٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اخترنے کہاکہ ایمپریس مارکیٹ کے چاروں اطراف کی دکانیں تجاوزات تھیں جنہیں مسمار کیا جارہا ہے اور اب شہر کی خوبصورتی کے لیے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف پارکس بنائیں گے جب کہ صدر کے فٹ پاتھوں پر قبضہ ہوچکا تھا لیکن اب ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے، پرانے نقشے میں ایمپریس مارکیٹ کے چاروں طرف پارک ہیں جس پر مارکیٹ بنائی گئی ہے تاہم ہم اس زمین پر پارک بناکر ایمپریس مارکیٹ کو پرانی شکل میں بحال کریں گے۔وسیم اخترنے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ اور وزیراعظم کی ہدایت پر کام کیا، آپریشن کا مقصد لوگوں کو بیروزگار کرنا نہیں بلکہ شہر کو اصل شکل میں بحال کرنا ہے، ماضی میں غلطیاں ہوئیں لیکن یہ شہر کی خوبصورتی اور آثار قدیمہ ہے جس کو بحال کیا جائے گا، جو لوگ متاثر ہوئے ان کی فہرست بناکر متبادل جگہ دی جائے۔نہوں نے کہا کہ اپنی ساری ٹیم اور تمام مدد کرنے والے اداروں کا شکر گزار ہوں، فٹ پاتھ پر ہونے والی تجاوزات کو بھی صاف کیا جارہا ہے، اگر کسی کا بورڈ ٹوٹا ہے تو غلطی سے ٹوٹا ہے۔

November 11, 2018

پولیس اور رینجرز کی کارروائیاں ،5ملزمان پر مشتمل بھتہ خور گروہ گرفتار

کراچی جدت ویب ڈیسک :پاکستان رینجرز)سندھ)اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 5ملزمان ریحان الدین (سرغنہ)، محمد عابد، محمد عامر، محمد جبران ربانی اور سکندر پر مشتمل بھتہ خور گروہ کو گرفتار کیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزمان نے 28 اکتوبر2018 کو اورنگی ٹاو¿ن کے رہائشی تاجر محمد اسلام بھاشانی سے بذریعہ ٹیلی فون کال 5 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ بھتہ نہ ملنے پر ملزمان نے 29/28 اکتوبر2018 کی درمیانی شب تاجر محمد اسلام بھاشانی کے گھر پر فائرنگ کی جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فائرنگ کے واقعہ اور بھتہ مانگنے کی رپورٹ مورخہ 29 اکتوبر2018 کو تھانہ پاکستان بازار میں ایف آئی آر نمبر329/18 کے تحت درج کرائی گئی تھی۔ واقعہ کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد پاکستان رینجرز (سندھ) نے پولیس کے ساتھ مل کر ایک حکمتِ عملی ترتیب د ی جس کے نتیجے میں ملزم ریحان الدین کو ساتھیوں سمیت اورنگی ٹان کے علاقے سے گرفتار کیاگیا۔گرفتار ملزمان سے غیر قانونی اسلحہ، ایمونیشن اور بھتہ مانگنے کے لیے استعمال شدہ موبائل فون اور سم بھی برآمد کی گئیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان بھتہ خوری کے علاوہ ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیںجن میں1999 میں ملزم ریحان الدین نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جہانگیر روڈ پر واقع انٹر نیشنل کر کٹر محمد سمیع کے گھر میں 4 لاکھ روپے مالیت کے زیورات کی ڈکیتی کی ۔