July 20, 2019

مرید عباس قتل کیس ، تحقیقاتی ٹیم نے عاطف زمان کے انویسٹرز کی ابتدائی رپورٹ تیارکر لی

کراچی ۔۔جدت ویب ڈیسک :: اینکر پرسن مرید عباس کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہو گئی۔ تحقیقاتی ٹیم نے عاطف زمان کے انویسٹرز کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔
کراچی کی مقامی عدالت میں مرید عباس اور خضرحیات قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں زخمی ملزم عاطف کو آج بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ عاطف زمان کےعلاج کا بل نہیں دیا جا رہا۔ ملزم کے وکیل اور ماموں نے استدعا کی کہ عاطف زمان کو جناح اسپتال منتقل کر دیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ ملزم کو جیل بھیج دیتے ہیں وہ سرجن اس کا علاج کرے گا جس پر ملزم کے ماموں محمد اشفاق نے بل جمع کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ ملزم عاطف زمان پیر تک نجی اسپتال میں زیرعلاج رہے گا۔
دوسری جانب پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے عاطف زمان کے انویسٹرز کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔ ذرائع کے مطابق عاطف نے انویسٹرز کو ایک ارب 56 کروڑ 37 لاکھ 76 ہزار کی رقم ادا کرنی تھی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق عاطف سرمایہ کاروں کو مجموعی رقم پر ماہانہ 30 کروڑ 15 لاکھ بیس ہزار روپے منافع دیتا تھا۔ ذرائع کے مطابق مقتول مرید عباس عاطف زمان کو گیارہ کروڑ 72 لاکھ پچاس ہزار روپے دے چکا تھا۔
مقتول مرید عباس کو دو کروڑ 93 لاکھ بارہ ہزار منافع ملنا تھا۔ مقتول خضرحیات کے عاطف زمان کے پاس ایک کروڑ 58 لاکھ روپے موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق پولیس صرف دوہرے قتل کی تحقیقات کرے گی۔ مالی معاملات کی تفتیش کے لئے نیب سے درخواست کی جائے گی۔

July 19, 2019

کراچی، لفٹ میں پھنسنے کی وجہ سے 14 سالہ گھریلو ملازم جاں بحق

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::شہر قائد کے علاقے کلفٹن میں 14 سالہ گھریلو ملازم لفٹ میں پھنسنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا، جس کی لاش چار گھنٹے تک نہ نکالی جاسکی۔ دوسری جانب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی رکن اسمبلی اور مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نصرت سحر عباسی نے بچے کی موت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’غریب کے بچوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، وزیر اعلیٰ سندھ اور مشیر اطلاعات نے تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا اگر یہ کسی امیر باپ کا بیٹا ہوتا تو فوری کارروائی کی جاتی‘

تفصیلات کے مطابق کلفٹن میں واقع دعا ہوٹل کے قریب اپارٹمنٹ کی لفٹ میں پھنس کر چودہ سالہ احسن نامی گھریلو ملازم جاں بحق ہوگیا، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بچہ فلیٹ میں کام کرتا تھا۔ بچے کو مالک نے کسی کام سے بھیجا اور جب وہ واپس نہ آیا تو اُس کی تلاش شروع کی گئی، چار گھنٹے بعد جب لفٹ کھول کر دیکھی تو احسن کا دم نکل چکا تھا۔ احسن کی لاش لفٹ کے نچلے حصے میں پھنسی جس کو پہلے فلیٹ کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالنے کی کوشش کی مگر جب وہ ناکام ہوئے تو پھر ریسکیو ادارے کے اہلکاروں کو بلایا۔ چار گھنٹے سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود 14 سالہ بچے کی لاش کو نہ نکالا جاسکا۔‘۔

July 19, 2019

انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کا خاتمہ کرنا ہوگا، چیف جسٹس

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کراچی میں سینٹرل پولیس آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاخیری حربوں سے متعلق تین چیزوں پر فیصلہ کیا گیا ہے، فیصلہ کیا ہے کہ کیس کی سماعت ملتوی جج یا وکیل کے جاں بحق ہونے پر ہوگی، اب مقدمات میں التوا نہیں دیا جائے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کا خاتمہ کرنا ہوگا، پولیس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔  چیف جسٹس نے کہا کہ ایک کیس کا فیصلہ کیے بغیر دوسرے کیس میں شہادتیں ریکارڈ نہیں ہوں گی، اب ایک کیس میں تمام شہادتوں کو نمٹایا جائے گا، کسی بھی وقوعے کی شہادتیں جمع کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ذمہ داری مقامی پولیس کے ذمے ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں جھوٹے گواہ بڑا مسئلہ ہیں، پہلا مسئلہ جھوٹی گواہی دوسرا مسئلہ تاخیری حربے ہیں، جسٹس منیر نے 1951 سے پہلے جھوٹے گواہوں پر ریمارکس دئیے تھے، جسٹس منیر کے ریمارکس کے برعکس جانا چاہتا ہوں، جو ایک بار عدالت میں جھوٹی گواہی دے اس پر تو پابندی لگنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ایسے جھوٹے گواہ کو عدالت ڈیکلیئر کرے یہ جھوٹا ہے، جو شخص کیس میں جھوٹی گواہی دے تو اسے مجرم کے برابر سمجھنا چاہئے، جھوٹے گواہوں کے ساتھ ملے ہوئے تحقیقاتی افسر کو بھی مجرم تصور کرنا چاہئے، جھوٹے گواہ کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹے گواہوں پر دیا جانے والا فیصلہ تاریخی ثابت ہوگا، طے کرنا چاہئے کسی کی بھی غلط بیانی سے کیس بگڑے گا، اکثر جھوٹے چشم شدید گواہ مدعی کے رشتے دار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تفتیشی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تفتیشی افسر کو معلوم ہونا چاہئے استغاثہ کیس کیسے ثابت کرتا ہے، آج بھی پراسیکیوشن پولیس کے آگے دئیے گئے بیان پر اعتماد کرتی ہے، عدالتوں کو تفتیشی افسران کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا ہے، پولیس کے امیج کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مقدمات میں ملوث ملزمان کے بچوں کے لیے چائلڈ پروٹیکشن بورڈ قائم کیا جارہا ہے، ہر ضلع میں ایک ماڈل عدالت بھی قائم کررہے ہیں، پراسیکیوشن کے آگے بیانات پر اعتماد کی بحالی کے لیے اسسمنٹ کمیٹی بنارہے ہیں، معاشرے کی بہتری کے لیے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری ناگزیر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کا صرف پولیس کے سامنے اقرار جرم کافی نہیں ہوتا، تفتیشی افسر کو معلوم ہونا چاہئے عدلیہ میں استغاثہ کیسے کیس بیان کرتا ہے، پولیس اور عدلیہ انصاف کے شعبے کو بہتر بناسکتے ہیں۔

July 18, 2019

جس نے ماضی میں جو کیا وہ بھگتے گا ، وزیر داخلہ اعجاز شاہ

کراچی، جدت ویب ڈیسک ) وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ماضی میں جوکیا ، وہ بھگتے گا ۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ نیب آزاد ادارہ ہے ،آصف زرداری نے کہا تھا اس طرح تو ہوتا ہے ، اسطرح کے کاموں میں ۔
اعجاز شاہ نے کہا کہ احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے جنہوں نے کام خراب کیا، انہیں گرفتار ہونا چاہئے ،تحریک انصاف کے لوگ بھی پکڑے گئے ہیں ،ہر کسی کا حق ہے کہ احتجاج کرے ، لیکن حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں کی املاک کا تحفظ کرے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان فرنٹ فٹ پر ہیں ،وزیر اعظم وہ کام کریں گے جو قوم کے مفاد میں ہوگا،پاکستان کی پالیسی میں بہت تبدیلی آئی ہے جس کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو جاتا ہے ،اگر احتجاج کے دوران کوئی شخص حکومتی اور شخصی املاک کو نقصان پہنچاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کردار ادا کریں گے

July 15, 2019

کراچی کے ڈکیتوں نےپولیس کی وردی پہن لی۔۔۔۔ہوشیار

کراچی جدت ویب ڈیسک ::پولیس وردی سے مشابہ کپڑوں میں ملبوس ڈکیتوں نے شہری لوٹ لیا
کراچی میں طسے مشابہ ڈکیت گروہ سرگرم ہو گیا ، ملزمان نے ایک شہری کے پاس موجود رقم میں کچھ جعلی نوٹوں کی موجودگی کا الزام لگاکر روکا اور 2 لاکھ روپے چھین کر بھاگ گئے ۔
کراچی والے ہوجائیں ہوشار، خبردار ، پولیس سے مشابہ وردی والوں سے دھوکہ نہ کھائیں ، ڈکیت گروہ مبینہ ٹاؤن تھانے کی حدود میں سرگرم ہے ، 15 دن کے دوران 4 شہریوں پر ہاتھ صاف کردیا ۔
ملزمان نے چند روز قبل یونیورسٹی روڈ پر ایک شہری سے لوٹ مار کی ، بینک سے رقم نکلوانے والے شہری کو روکا اور جعلی نوٹ ہونے کا الزام لگادیا ، شہری نے جیسے ہی رقم چیک کرنے کیلئے ایک ملزم کو دی، وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور دوسرے ملزم نے گاڑی بھگادی اور 2 لاکھ روپے لوٹ کر نو دو گیارہ ہوگئے ۔متاثرہ شہری کے ساتھی نے واقعے کی ویڈیو بناکر پولیس کے حوالے کردی، لیکن تاحال ملزمان قانون کی گرفت سے دور ہیں ۔

July 15, 2019

کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز نے جعلی صحافتی کارڈز بنواکر وارداتیں شروع کردیں

کراچی : جدت ویب ڈیسک ::اسٹریٹ کرمنلز کا جعلی صحافتی کارڈز بنوا کروارداتیں کرنے کا انکشاف ہوا، گرفتار ملزم نے اعتراف کیا اعلیٰ صحافتی تنظیم کا جعلی کارڈ بنا رکھا تھا اور موٹرسائیکل پر بھی پریس لکھوا رکھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے خواجہ اجمیرنگری سے جعلی صحافی کو گرفتار کرلیا، ملزم اسماعیل سے اسلحہ اور چھینا ہوا موبائل فون بھی برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم اسماعیل نے اعلیٰ صحافتی تنظیم کا جعلی کارڈ بنا رکھا تھا۔دوران تفتیش ملزم اسماعیل نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا آواز نیوز میں ملازمت کرتاہوں، موٹرسائیکل پر بھی پریس لکھوارکھاہے، نارتھ کراچی میں اپنے دوست کے ہمراہ ڈکیتی کی، کچھ دور آگے جاکرایک اورموبائل فون چھینا، ڈکیتی میں دوست ساتھ تھا اسے پوڈری کےنام سے جانتا ہوں۔
ایس ایس پی عارف اسلم نے کہا ملزم پریس کےکارڈکی وجہ سےہمیشہ بچ جاتاتھا اور پولیس اعلیٰ صحافتی تنظیم کے کارڈ کی وجہ سے شک نہیں کرتی تھی۔
ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا ملزم اسماعیل سے ملنے والے صحافتی کارڈ کی تصدیق لاہور سے کی، لاہور کے صحافتی تنظیم کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کارڈ جعلی ہے۔
یاد رہے گذشتہ ماہ سندھ رینجرز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گلستانِ جوہر کے علاقے پرفیوم چوک میں کارروائی کرتے ہوئے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث 3 ملزمان تابش ندیم، محمد یاسر علی اور فرقان رشید کو گرفتار کیا تھا۔ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔باقیوں کی تلاش جاری ہے