پاکستان کی درجہ بندی میں 28 درجے کی بہتری۔کاروبار کرنے میں آسانی

October 24, 2019 3:14 pm

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::عالمی بینک کے ’کاروبار میں آسانی کے انڈیکس‘ میں پاکستان نے 28 درجے بہتری حاصل کر لی ہے اور عالمی سطح پر 136ویں سے 108ویں درجے تک پہنچ گیا ہے۔
عالمی بینک کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کاروباری ماحول میں بہتری کے انڈیکس میں پاکستان دنیا کے دس بہترین ممالک کی فہرست میں آ گیا ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ایک برس کے دوران چھ شعبوں میں نمایاں اصلاحات کی ہیں جن کے باعث وہ 190 ممالک کی فہرست میں 108ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
دنیا میں جو دس ممالک نے سب سے زیادہ بہتری لائے ہیں ان میں پاکستان سعودی عرب، اردن، ٹوگو، بحرین، تاجکستان، کویت، چین، بھارت اور نائجیریا شامل ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ پر ردعمل
وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمارے منشور کا ایک اور وعدہ وفا ہو گیا، یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بہتری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران پاکستان کاروباری میں آسانی انڈیکس میں 50 درجے سے زیادہ نیچے چلا گیا تھا۔
کاروبار میں آسانی” کی صورت میں ہمارے منشور کا ایک اور وعدہ ایفاء ہوگیا۔ عالمی بنک کی “ای او ڈی بی رینکنگ” میں پاکستان کو تاریخ کی سب سے بڑی بہتری میسرآئی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان پھسلتا ہوا 50 درجے نیچے آیا۔ اب 28 درجوں کی بہتری کیساتھ ہم 136 سے 108 پر آچکے ہیں۔
میں حکومت کے ان تمام لوگوں کو جنہوں نے اسے ممکن بنانے کیلئے نہایت محنت کی، مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مگر طویل مسافت ابھی باقی ہے۔ انشاءاللہ 2020 سے قبل پاکستان سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین ممالک میں سے ایک ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت کے ان تمام لوگوں کو جنہوں نے اسے ممکن بنانے کیلئے نہایت محنت کی، مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مگر طویل مسافت ابھی باقی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انشاءاللہ 2020 سے قبل پاکستان سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین ممالک میں سے ایک ہو گا۔
عالمی بینک کے پاکستان کے لیے کنٹری ڈائرکٹر پیچوموتو الینگوون نے اس نمایاں بہتری کا سہرا وفاق، صوبہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی اجتماعی کاوشوں کے سر باندھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیزرفتار اصلاحاتی ایجنڈے میں کئی ایسے قابل توجہ فیچرز موجود ہیں جن کے باعث قواعد پر عمل درآمد کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
رینکنگ میں بہتری پر مشیر خزانہ عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ عالمی بنک کی رپورٹ سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی درجہ بندی میں پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی بہتری دیکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان 50 مختلف مقامات پر بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بنیادی اصلاحات مستقل ترقی کا واحد راستہ ہیں۔
پاکستان کونسے شعبوں میں بہتری لایا ہے؟
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آن لائن ون اسٹاپ شاپ کے ذریعے کاروبار میں آسانی پیدا کی ہے، اسی طرح لاہور میں لیبر ڈیپارٹمنٹ رجسٹریشن فیس بھی ختم کی گئی ہے۔
اسی طرح پاکستان نے آن لائن ادائیگی کے طریق کار متعارف کرا کر ٹیکسوں کی ادائیگی آسان بنائی ہے، کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی بھی لائی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بجلی کا حصول آسان بنایا ہے، بجلی کا کنکشن لگانے کا وقت مقرر کیا گیا ہے اور نئے درخواست دہندگان کے لیے آن لائن نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اسی طرح بجلی کے نرخوں میں کمی کے طریق کار میں شفافیت لائی گئی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق تعمیر کے اجازت نامے کی جلد منظوری کے ذریعے اس نظام کو آسان اور بہتر بنایا گیا ہے، تعمیراتی کاموں میں حفاظتی پہلوؤں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متواتر نگرانی کی جاتی ہے۔
لاہور کی حد تک ون اسٹاپ شاپ کے ذریعے تعمیراتی اجازت نامہ کا حصول آسان اور تیز رفتار بنایا گیا ہے۔
کاروبار کی آسانی کا ایک اور معیار سرحد پار تجارت میں آسانی ہے جس میں بھی بہتری آئی ہے، عالمی بینک کے مطابق ویب بیسڈ ون کسٹم کے الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے مختلف ایجنسیوں کو اکٹھا کر کے اس شعبے میں بھی ترقی لائی گئی ہے۔ اسی طرح بندرگاہ پر موجودگی برقرار رکھ کر نگرانی کرنے کے نظام کو مربوط بنایا گیا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جائیداد کی رجسٹریشن کا نظام بہتر بنایا گیا ہے، لاہور کی حد تک نظام مالیات میں شفافیت لائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کنکشن کے حصول میں پاکستان 167 سے 123ویں درجے پر آ گیا ہے، اسی طرح جائیداد کی رجسٹریشن میں پاکستان 161 سے 151 نمبر پر آ گیا ہے۔
عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ اس سروے پر مبنی ہے جو لاہور اور کراچی میں نومبر 2018 سے جون 2019 کے درمیان کیا گیا۔
کاروبار میں آسانی کا انڈیکس کیا ہے؟
عالمی بینک کی ’کاروبار میں آسانی کا انڈیکس‘ غیرملکی سرمایہ کاروں کو کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں مختلف پیمانوں پر مختلف ممالک کی کارکردگی پرکھی جاتی ہے۔
کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جن شعبوں کو خصوصاً دیکھا جاتا ہے ان میں تعمیراتی اجازت نامے، رجسٹریشن، قرض کا حصول، ٹیکس کی ادائیگی کا نظام وغیرہ شامل ہیں۔

Image

متعلقہ خبریں