گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

October 12, 2019 3:29 pm

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک ::مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی کی گئی ہے، ملک کے 2 بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے۔ گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔
تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے، حکومت نے ذرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، وزیر اعظم اور وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات بھی کم کیے گئے۔ 8 لاکھ اضافی لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا گیا۔ رواں سال 5 ہزار 500 ارب کے ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی سیکٹر کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ملازمتوں میں اضافہ ہو، پاکستان کے 2 بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے۔ گزشتہ مالی سال پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر تھا۔ تجارتی خسارے میں 35 فیصد کی کمی کی گئی ہے۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات اور آمدنی میں گیپ کو 36 فیصد کم کیا، مالیاتی خسارے کو بھی کم کیا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی مالیاتی خسارہ 4 سو 76 ارب روپے ہے۔ ریونیو میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا، گزشتہ 3 ماہ میں کوئی ضمنی گرانٹس بھی نہیں جاری کی گئیں۔ نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 4 سو 6 ارب روپے حاصل کیے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں نان ٹیکس آمدنی میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔ نان ٹیکس آمدنی کو 1 ہزار 6 سو ارب تک لے کر جائیں گے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ماضی میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی ارب ڈالر ضائع کیے گئے، گزشتہ 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں بھی اعتماد بڑھا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں اگست سے اب تک 22 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے، نتائج آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں، عالمی ادارے پاکستان کے بارے میں اچھے بیانات دے رہے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کی مد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فنڈز جاری کیے۔ گزشتہ سال اسٹیٹ بینک کا منافع 51 ارب تھا، اب 185 ارب ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر سے 338 ارب روپے اضافی حاصل ہو سکتے ہیں۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے منافع میں مزید 200 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، پی ڈی ایل کی مد میں 250 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اس کا فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ حکومتی خسارے میں کمی کا مطلب ہے قرض بھی کم لینا پڑے گا۔ ایکسچینج ریٹ کو استحکام دے رہے ہیں تو سرمایہ کاروں اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، کرنسی میں استحکام آیا ہے۔ تین ماہ سے پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی۔ ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک ملازمت دلائی۔ حکومتی اقدامات کا تعلق عوام کی خوشحالی سے جڑا ہے۔ مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں منی لانڈرنگ کو روکا جائے، منی لانڈرنگ کو روکنے سے دنیا میں اچھا تاثر جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے جلد نکلنا چاہتے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے بتایا کہ دبئی لینڈ اتھارٹی جائیدادوں کی معلومات فراہم کرے گی، دبئی حکام سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اقامے کے غلط استعمال سے متعلق بھی بات چیت کی گئی، اقامے کا غلط استعمال اب نہیں ہوسکے گا۔  انہوں نے کہا کہ ڈبل ٹیکس ٹریٹی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ شناختی کارڈ کی شرائط سے متعلق تاجروں کو مطمئن کرلیں گے، تاجروں کے دونوں گروپوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

Image result for dr hafeez sheikh press conference

متعلقہ خبریں