اوگرا کانوٹیفکیشن جاری ،گیس چوری تکنیکی نقصانات کے 65ارب عوام سے وصولنے کا فیصلہ

December 26, 2018 4:34 pm

جدت ویب ڈسیک ::موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب صارفین کی کمر توڑتے ہوئے گیس کی تقسیم کار کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے گیس چوری اور تکنیکی نقصانات کی مد میں 65 ارب روپے سے زائد کی رقم عوام سے وصول کرنے کی اجازت دے دی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا،ایس این جی پی ایل نے اوگرا میں مالی سال 2012-13 سے 2016-17 تک پانچ سالہ اخراجات پورے کرنے اور فنڈز کے انتظامات کے لیے درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں بنیادی طور پراضافی گیس چوری اور تکنیکی نقصانات (یو ایف جی لاسز) کے الاؤنسز کے نام پر شرح میں اضافہ کا مطالبہ کیا تھا۔
اوگرا نے اپنے فیصلے میں سوئی نادرن کو یو ایف جی لاسز کی شرح کی بنیادی حد 4.5 فیصد برقرار رکھتے ہوئے اضافی گیس چوری اور تکنیکی نقصانات کے الاؤنس کے نام پر 2.6 فیصد اضافہ سالانہ صارفین پر منتقل کرتے ہوئے عوام سے پیسہ وصول کرنے کی اجازت دے دی تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام پر یہ بوجھ یکمشت ڈالنے کی بجائے مختلف حصوں میں منتقل کیاجائے ۔
اضافی گیس چوری کی وصولی کا اطلاق مالی سال 2013 سے ہو گا، اوگرا نے سالانہ یو ایف جی میں 26 فیصد اضافے کی اجازت دیتے ہوئے گزشتہ 5 سال کی اضافی گیس چوری کی وصولیاں صارفین سے کرنے کی سوئی نادرن کو اجازت کا باقاعدہ فیصلہ جاری کر دیا۔
ممبر فنانس اوگرا نورالحق نے مذکورہ فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ یو ایف جی پالیسی گائیڈ لائن گیس چوری کی رپورٹ کے مطابق 2.6 فیصد اضافی شرح مقرر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے تاہم یو ایف جی رپورٹ میں 2.6 فیصد اضافے کی سفارش نہیں کی گئی لہذا یہاں پر پالیسی گائیڈ لائن اور یو ایف گی رپورٹ میں واضح تضاد ہے ۔

متعلقہ خبریں