نیب، بلڈرز کو فضائیہ کیس میں رقم کی واپسی کیلئے مزید3 ماہ کی مہلت

November 24, 2020 11:21 am

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو اور میکسم بلڈرز کو 25 فروری 2021 تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کے تمام متاثرین کو مکمل ادائیگی کرنے کی ہدایت کردی۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو ججز پر مشتمل بینچ نے مشاہدہ کیا کہ 6 ماہ گزر جانے کے باوجود نیب کی طرف سے کوئی تعمیلی رپورٹ ریکارڈ پر نہیں رکھی گئی۔
تاہم اس میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر نے بینچ کو آگاہ کیا کہ اب تک تقریبا 4 ہزار 100 افراد نے درخواستیں جمع کروائی ہیں اور ان میں سے 3 ہزار 963 کو پے آرڈرز جاری کردیئے گئے ہیں۔بینچ نے مشاہدہ کیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی متاثرہ شخص محروم نہ رہ جائے، نیب کی نگرانی میں ایک ہفتہ کے اندر اندر معروف انگریزی، اردو اور سندھی زبان کے اخبارات میں ایک اور اشتہار بھی جاری کیا جائے جس سے مزید متاثرین کو آگے آنے کا کہا جائے۔بلڈرز کے وکیل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ جب نیب کی جانب سے شکایت گزاروں کی تصدیق کے بعد وہ متاثرین کو ادائیگی کررہے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے تھے جس کی وجہ سے صورتحال مشکل ہوگئی ہے اور متاثرہ افراد کو ادائیگی کے لیے ان اکاؤنٹس سے رقم کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے تمام بینک اکاؤنٹس کو دوبارہ بحال کرنے کی استدعا کی۔عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ‘فی الحال ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ اگر متاثرین کو ادائیگی کے لیے منجمد اکاؤنٹس سے کچھ رقم لینے کے لیے نیب سے مصدقہ منظوری ہو تو یہ رقم صرف منجمد بینک اکاؤنٹس سے ہی نکالی جاسکتی ہے جو دیگر صورت میں منجمد ہی رہے گا، ایک بار جب ہر متاثرین کو پوری طرح ادائیگی کردی جاتی ہے تو یہ عدالت اکاؤنٹس کو بحال کرنے سے متعلق دوبارہ نظر ثانی کرے گی۔ اس معاملے کو 25 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ تمام متاثرین کو پوری ادائیگی کی جائے گی اور نیب اور میکسم بلڈرز کو بھی اس سلسلے میں اپنے حلف نامے جمع کروانا ہوں گے اور انہیں سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کی پوری تعمیل کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ 19 مئی کو بینچ نے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ پروجیکٹس، پی اے ایف اور بلڈرز کو فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کی تمام ذمہ داریوں کو طے کرنے اور الاٹیز کی رقم کو 6 ماہ کے اندر واپس کرنے کی اجازت دی تھی۔بلڈرز کو رہا کرتے ہوئے بینچ نے نیب کے چیئرمین کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات معطل کریں اور دونوں فریقین کی نگرانی کریں اور ان کے معاہدوں کو پورا کرنے میں سہولت کاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ تمام متاثرہ افراد کو مذکورہ مدت میں پورا معاوضہ ادا کیا جائے۔

متعلقہ خبریں