پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے سیکٹر سے جڑی ایک اچھی خبر

November 7, 2020 1:25 pm

کراچی ویب ڈیسک ::جہاں ایک طرف بلومبرگ نے کراچی کی سڑکوں پر چلنے والے ٹرانسپورٹ سسٹم کو دنیا کا بدترین ٹرانسپورٹ سسٹم قرار دیا ہے وہاں دوسری طرف پاکستان میں حکومت اگلے ماہ آواز اور پیٹرول کے دو بڑے مسائل کے حل کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد شروع کرنے والی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی وہیکلز پالیسی میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں، یہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے سیکٹر سے جڑی ایک اچھی خبر ہے، ملک میں جلد ماحول دوست گاڑیاں سڑکوں پر ہوں گی، جب کہ اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیاں دسمبر میں سڑکوں پر ہوں گی۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر 38 الیکٹرک بسیں درآمد کی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل کتنا روشن ہے؟ اس حوالے سے چیئرمین پاک وہیلز سنیل سرفراز منج نے کہا ملک میں دو قسم کی گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں ایک کمرشل اور دوسری ڈومیسٹک وہیکلز، حکومت جو الیکٹرک وہیکلز پالیسی لے کر آئی ہے، اس میں پہلے فیز میں 2 وہیلر اور 3 وہیلر (کمرشل گاڑیاں) کو الیکٹرک پر کرنا ہے، جب کہ لانگ ٹرم میں 4 وہیلر یا ڈومیسٹک گاڑیاں آئیں گی۔
انھوں نے کہا لیکن بدقسمتی سے اگر ابھی دیکھیں تو پاکستان میں صرف لگژری سیگمنٹ میں الیکٹرک گاڑیاں آ رہی ہیں، کیوں کہ ابتدائی طور پر جو ٹیکنالوجی آتی ہے تو وہ مہنگی ہوتی ہے، اس ایک غیر ملکی برانڈ کی 4 سو کے قریب الیکٹرک گاڑیاں آ رہی ہیں جس کی مالیت تقریباً پونے 2 کروڑ روپے ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ ابھی عام آدمی کی پہنچ سے کافی دور ہے الیکٹرک گاڑی، وقت کے ساتھ ساتھ جب ٹیکنالوجی سستی ہو جائے گی تب یہ عام آدمی کی پہنچ میں ہوگی۔چیئرمین پاک وہیلز نے کہا جہاں تک سیکٹر کی پوٹینشل کی بات ہے تو عالمی سطح پر تو مستقبل الیکٹرک گاڑیوں کا ہے لیکن اگر ہم گورنمنٹ کی پالیسی کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو پاکستان میں اس حوالے سے میں اتنا پُر امید نہیں ہوں، اگر پاکستان کی ٹوٹل مارکیٹ سو گاڑیوں کی ہے تو اس میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ 30 فی صد سے زیادہ نہیں ہوگی کیوں کہ جو لوگ چھوٹے شہروں یا گاؤں دیہات میں رہتے ہیں، ان تک یہ گاڑیاں نہیں پہنچیں گی، وہاں بجلی کے مسائل بھی ہیں تو گاڑیاں کیسے چارج ہوں گی۔
انھوں نے کہا بڑے شہروں میں بھی سارے لوگ اس پر شفٹ نہیں کریں گے، تو میرا خیال ہے کہ دس سے پندرہ فی صد ایسے لوگ ہوں گے جو گیسولین کو چھوڑ کر الیکٹرک گاڑیوں پر شفٹ کریں گے۔
سنیل سرفراز نے کہا کہ گاڑیاں الیکٹرک ہوں یا گیسولین، جب تک ان کی تعداد زیادہ نہ ہو، اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہو تب تک عوام کے لیے مسائل رہیں گے، پاکستان میں پبلک سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا اور اس خلا کو پرائیویٹ سیکٹر نے پُر کیا، اگرچہ حکومت نے ابھی اعلان کیا ہے کہ پہلے پبلک سیکٹر میں الیکٹرک گاڑیاں لائیں جائیں گی لیکن عالمی سطح پر گو گرین کا جو نعرہ ہے، یہاں اس پر سوالیہ نشان تو ہے کیوں کہ اگر آپ ان گاڑیوں کو چارج کریں گے تو اتنی بجلی میسر نہیں ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آپ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کی پبلک بسیں الیکٹرک پر منتقل کر دیتے ہیں تو اگر کسی روز پورا دن بجلی نہ ہوئی تو یہ گاڑیاں کیسے چلیں گی؟

متعلقہ خبریں