عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔

October 20, 2020 2:21 pm

ویب ڈیسک ::آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت نے نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔
لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پرسماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت سے ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو سوالنامہ دیا گیا جن کے جوابات میں تضاد ہے، شہبازشریف سے غیر ملکی فلیٹس کے قرضوں سے متعلق تفتیش کرنا ابھی باقی ہے، ملزم نے یہ نہیں بتایا کہ فلیٹس کے لیے جو قرضہ لیا گیا وہ کیسے واپس کررہے ہیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ شہباز شریف سے افضال بھٹی کے اکاؤنٹس سے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی کی تفتیش کرنی ہے، شہباز شریف نے اکاؤنٹ سے متعلق کہا کہ انہیں اس کا علم ہی نہیں، شہباز شریف نے افضال بھٹی سے قرض کا بتایا حالانکہ وہ ان کا اکأونٹنٹ ہے۔
اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اگر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا تو کیا آپ زبردستی لیں گے؟ آپ نے ریفرنس فائل کردیا اب کیا تفتیش رہ گئی ہے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ جی ابھی شہباز شریف سے کچھ معاملات میں تفتیش باقی ہے۔کیس کی سماعت کے موقع پر شہباز شریف نے عدالت کو بیان دیا کہ میں نے نیب کے عقوبت خانے میں 85دن گزارے ،بعد ازاں احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا انہیں 27اکتوبر تک کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا۔
پہلے بھی تفتیش کی اور جو دستاویزات انہوں نے طلب کیں وہ ان کے حوالے کردی ہیں، جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس کی الگ انکوائری ہے۔
نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس میں تاحال 22دن کا جسمانی ریمانڈ ہوا، پہلے شہباز شریف کا آشیانہ کیس میں جسمانی ریمانڈ لیا گیا، شہباز شریف تفتیش میں تعاون نہیں کررہے، ملزم تفتیش میں تعاون نہ کرے تو ہمارا کام ہے کہ اس سے تفتیش مکمل کریں۔

متعلقہ خبریں