. خدشہ ہے بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے افغانستان کو استعمال کرسکتا ہے، وزیراعظم

October 26, 2020 1:55 pm

اسلام آباد : ویب ڈیسک :: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت نظریاتی طورپرپاکستان کےخلاف ہے، خدشہ ہے بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے افغانستان کو استعمال کرسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان، افغانستان تجارت و سرمایہ کاری فورم 2020 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرمایہ کاری فورم کے انعقاد پرمبارکبادپیش کرتاہوں ، پاکستان کا افغانستان سے کنکشن صدیوں سے ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تجارتی،عوامی روابط کے لئے تجارتی فورم کا انعقاد خوش آئند ہے، بدقسمتی سے افغانستان میں 40سال سے انتشار ہے ، افغانستان کے انتشار سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا،اس انتشارکی وجہ سے افغانستان،پاکستان میں اختلاف ،شک و شبہات پیداہوئے۔عمران خان نے کہا کہ انسان اور قوم ماضی سےسیکھتےہیں جو پھنس جاتے ہیں آگے نہیں جاسکتے، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے ماضی سے کیا سبق حاصل کیا، تاریخ پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں باہر سے کوئی مداخلت کبھی کامیاب نہیں ہوئی ، جیسی حکومت چاہیں اس کا انتخاب کرنا افغان عوام کا فیصلہ ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے پاکستان کی تین جنگیں ہوچکی ہیں لیکن بھارت میں 72 سالوں میں مسلمانوں سے اتنی نفرت کرنیوالی حکومت نہیں آئی، بھارت کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر سمجھ آگیا کہ کوئی فائدہ نہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے بھارت افغانستان کو استعمال کرسکتا ہے، بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو اوپن جیل میں رکھا ہوا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا مستقبل پاکستان اور افغانستان کے تعلقات،تجارت میں ہے ،ہم نے اپنے ملک کو انڈسٹریلائزیشن کی طرف لیکر جانا ہے، ہمیں ایسی پالیسیاں بنانی ہیں کہ ہمارے ملک میں دولت بڑھے، امن واستحکام کیلئے پاکستان اور افغانستان کے مضبوط تعلقات ضروری ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نظریاتی طورپرپاکستان کےخلاف ہے، افغانستان،پاکستان کے بہتر تعلقات کا سب سے زیادہ فائدہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ہوگا، پاکستان سے زیادہ کوئی کوشش نہیں کررہا کہ افغانستان میں امن ہو، ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے افغان امن عمل کامیابی سے ہمکنار ہو۔
عمران خان نے مزید کہا پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ پرتشددواقعات میں کمی آئے اور افغانستان میں سیز فائر ہو کر امن واستحکام آئے ، اللہ سے دعا ہے پاکستان اور افغانستان میں بھی اوپن بارڈر تجارت ہو۔

متعلقہ خبریں