15 ستمبر سے طلبہ خالی بستے لے کر اسکول جائیں گے

September 12, 2020 4:00 pm

کراچی: سندھ حکومت کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کی نااہلی کے سبب منگل 15 ستمبر سے کھلنے والے اسکولوں اور کالجوں میں نویں و دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے لاکھوں طلبہ بغیر کتابوں کے اسکول جائیں گے۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کا ماتحت ادارہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نجی اسکولوں کے نویں اور دسویں کے طلبہ اور کالجوں کی سطح پر انٹر کے طلبہ کے لیے درسی کتب کی بروقت چھپائی اور مارکیٹ میں کتب کی فراہمی میں ناکام ہوگیا۔ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کی درسی کتب اردو بازار سمیت کراچی کی کسی مارکیٹ میں موجود نہیں جبکہ سرکاری اسکولوں کے لیے کتابوں کی مفت تقسیم free distribution کا عمل بھی تاحال نامکمل ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق صرف کراچی کے کم از کم تین ڈسٹرکٹ ایسے ہیں جہاں سیکنڈری کی سطح پر سرکاری اسکولوں میں درسی کتب اب تک نہیں پہنچ سکیں۔ واضح رہے کہ پورے ملک کی طرح کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی منگل 15 ستمبر سے نویں سے بارہویں جماعتوں کا تدریسی سلسلہ شروع ہونے والا ہے تاہم کوویڈ 19 کے سبب جب ساڑھے 6 ماہ بعد کراچی سمیت سندھ کے طلبہ منگل 15 ستمبر سے اسکول جائیں گے تو ان کے بستے خالی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح چھٹی اور ساتویں جماعت کی اردو کی کتاب مارکیٹ میں نہیں ہے۔ انھوں نے انٹرمیڈیٹ کی سطح پر کسی ایک مضمون کی ایک کتاب موجود نہ ہونے کی بھی تصدیق کی۔ صدر ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ 6 ماہ سے اسکول بند ہیں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو کتابوں کی چھپائی کے لیے اضافی تین ماہ ملے پھر بھی کتابیں مارکیٹ کو چھاپ کر نہیں دی گئیں۔  واضح رہے کہ سوائے کیمبرج اسکولوں کے کراچی سمیت سندھ کے 80 فیصد سے زائد یعنی تقریبا 10 ہزار سے بھی زائد نجی اسکول نویں اور دسویں کی سطح پر اپنے طلبہ کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا سرکاری نصاب پڑھاتے ہیں کیونکہ ان کے طلبہ بھی سرکاری تعلیمی بورڈ سے ہی میٹرک کا امتحان دیتے ہیں اور جب یہ طلبہ اور ان کے والدین نویں اور دسویں کی کتابوں کے لیے بازار پہنچ رہے ہیں تو انھیں بتایا جارہا ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کا کورس موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں