وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کی تقرریوں کے خلاف،وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری

August 10, 2020 5:40 pm

ویب ڈیسک ::لاہور: وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی کی تقرریوں کے خلاف درخواست لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور ہو گئی۔
چیف جسٹس ہائی کورٹ قاسم خان نے معاونین خصوصی کی تقرریوں کے خلاف درخواست پر سماعت کی، عدالت نے وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔
عدالت نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی کا طریقہ کار، ان کی خدمات اور ان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی مانگ لیں، وزیر اعظم کے تمام ایڈوائزرز کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے۔
چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ یہاں اثاثے 25 ہزار ہیں اور بیرون ملک 25 ہزار ڈالرز ہوتے ہیں، بد قسمتی ہے کہ لوگ بریف کیس لے کر آتے ہیں اور بھر کر چلے جاتے ہیں۔
ایڈوائزرز سے متعلق چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کسی کو بھی اٹھا کر ایڈوائزر لگایا جا سکتا ہے؟ کیا اسپیشلسٹس، ٹیکنیکل ایکسپرٹس لوگوں کو ایڈوائزر لگایا جا سکتا ہے، اور آئین میں کہاں ذکر ہے کہ وزیر اعظم کے ایڈوائزر تعینات کیے جا سکتے ہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے تحت وزیر اعظم معاون خصوصی تعینات کر سکتا ہے، آئین ایڈوائزرز کو پارلیمنٹ میں تقریر کی اجازت بھی دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا معاون خصوصی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا، یہ کہاں سے لیتے ہیں اور معاون خصوصی کیسے کابینہ کی میٹنگ میں بیٹھ سکتے ہیں؟ اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ معاون خصوصی کابینہ میں نہیں بیٹھ سکتے، وہ خاص طور پر بلائے جاتے ہیں۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کہے کہ یہ میرا بڑا قریبی دوست ہے تو کیا اسے معاون خصوصی لگا دیتے ہیں، آپ بتا سکتے ہیں کہ کتنے معاون خصوصی ہیں؟ اوران کی کیا خصوصیت ہے؟ اکثر اوورسیز پاکستانیز باہر سے پیسہ بھیجنے والے سفید ہوش لوگ ہیں، یہ بزنس ٹائیکون ہیں، لیکن کبھی سامنے نہیں آیا کہ بہت بڑی رقم پاکستان بھیجی ہے، 25 یا 30 کروڑ کی سرمایہ کاری لائے ہوں تو پھر بات ہے، اگر وہ یہاں آ کر ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں اور دوستوں پر کچھ خرچ کر دیتے ہیں تو ایسا تو روٹین ہوتا ہے، ہمارا کلچر ہے کہ اس قسم کے خرچے کر کے چلے جاتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی سفید پوش لوگوں کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ آتا ہے۔

متعلقہ خبریں