سال 2020 کے اختتام تک 15 لاکھ کے قریب غیر ملکی کارکنان کویت سے نکل جائیں گے۔وزیر داخلہ کویت انس الصالح

July 12, 2020 2:19 pm

کویت:ویب ڈیسک :: رواں سال 2020 کے اختتام تک توقع کی جا رہی ہے کہ 15 لاکھ کے قریب تارکین وطن کویت چھوڑ دیں گے۔وزیر داخلہ کویت انس الصالح نے نئے رہائشی قانون کے مسودے کے حوالے سے کہا تھا کہ اب ہر سال کمپنیوں سے غیر ملکیوں کی تعداد کو کم کر کے محدود کیا جائے گا، اس سلسلے میں غیر ملکی کارکنوں کی پرکھ ان کی مہارت کی بنیاد پر کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق کویت میں یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ سال 2020 کے اختتام تک 15 لاکھ کے قریب غیر ملکی کارکنان کویت سے نکل جائیں گے۔

کویت میں موجود کمپنیوں پر کرونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات سے ان کمپنیوں کے معاشی حالات ٹھیک نہیں، اخراجات کم کرنے کی غرض سے یہ کمپنیاں غیر ملکی کارکنان کو واپس بھیجنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

کویت کے مقامی اخبار کے مطابق مختلف کمپنیوں نے اپنی افرادی قوت کم کرنے کی حکمت عملی اپنالی ہے، دوسری طرف کویتی حکومت نے نئے رہائشی قوانین لاگو کر دیے ہیں جس کی وجہ سے بھی تارکین وطن کویت کو خیرباد کہہ کر اپنے ممالک جانے لگے ہیں۔

کویتی حکومت نے رہائشی قوانین کے ساتھ ساتھ ایک اور پالیسی بھی اپنا لی ہے جس کے تحت ملازمتوں میں کویتائزیشن کو ترجیح دی جا رہی ہے، یعنی مقامی افراد کو ملازمتوں پر رکھا جا رہا ہے۔

کویتی میڈیا نے بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی ایام 16 مارچ سے 9 جولائی تک ایک لاکھ 58 ہزار سے زائد تارکین وطن کویت چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جن غیر ملکیوں نے کرونا وبا کے سبب کویت چھوڑا، ان میں مصری اور انڈین شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

 

متعلقہ خبریں