علی زیدی کی عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ پر چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل

Ali Zaidi
July 7, 2020 4:00 pm

اسلام آباد:جدت ویب ڈیسک:وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ تبدیلی پر چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔ انہوں نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ 35 صفحات پر مشتمل جب کہ اصل رپورٹ 43 صفحات کی ہے، ایک جے آئی ٹی پر 4 اور دوسری پر 6 لوگوں کے دستخط ہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف جرائم کا ذکر کیا گیا، یہ نہیں بتایا گیا کس کے کہنے پر جرم ہوئے، عزیر بلوچ نے کہا آصف زرداری اور فرالی تالپور کے کہنے پر سر کی قیمت ختم کی گئی، عزیر بلوچ نے خدشہ ظاہر کیا انکشافات کے بعد انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ذوالفقار مرزا کے بعد اویس ٹپی عزیر بلوچ سے کام لیتا تھا، کہا گیا آرٹیکل 63، 62 کے تحت میرے خلاف کورٹ جائیں گے۔ علی زیدی کا کہنا تھا چیف جسٹس گلزار احمد مجھ سے جے آئی ٹی رپورٹ مانگیں، چیف جسٹس کراچی کے ہیں، انہوں نے خود بھی دیکھا شہر کے کیا حالات ہیں، چیف جسٹس تمام دستخط کنندہ کو بلائیں اور رپورٹ سے متعلق پوچھیں، سندھ حکومت کی رپورٹ میں 6 نام موجود نہیں، اصل رپورٹ میں رزاق کمانڈو کو مارنے کیلئے قادر پٹیل کے حکم کا ذکر ہے، جن لوگوں کا قاتلوں میں نام ہے وہ آج بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہیں، ازخود نوٹس کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کروں گا۔

متعلقہ خبریں