میئرکراچی وسیم اختر کا فنڈز پر رونا ختم نہ ہوسکا

June 28, 2020 2:42 pm

کراچی:جدت ویب ڈیسک :: مئیر کراچی جب سے  میئر بنے ہیں  فنڈ کا رونا ختم نہ ہوسکا  ابھی بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا، اہم بیٹھک سے قبل کسی ممبر کا کروناٹیسٹ نہیں کرایا جاسکا، بلدیہ عظمیٰ کے کونسل اراکین کی تعداد309 ہے۔

ذرایع کے مطابق بجٹ اجلاس سے قبل کرونا ٹیسٹ نہ ہونے سے ممبرز میں تشویش کی لہر ہے، کونسل روم میں اتنی جگہ نہیں کہ ممبرز سماجی فاصلے سے بیٹھ سکیں، جس کے باعث کرونا کی موجودگی اور پھیلاؤں کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔

میئرکراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے پاس پیسے نہیں وہ ممبرز کے کرونا ٹیسٹ کراسکے، کے ایم سی مالی بحران کا شکار ہے، کے ایم سی ملازمین کی تنخواہیں اور واجبات کی ادائیگی مشکل ہورہی ہے۔

مئیر نے بتایا کہ اوزیڈ ٹی کی مد میں فنڈز کو روک لیا گیا ہے، بجٹ بنانا مشکل ہے ٹیسٹ کہاں سے کراؤں؟ وفاقی اور صوبائی حکومت کو مسائل بتا کرتھک چکا ہوں کوئی ایکشن نہیں ہورہا۔

یاد رہے کہ اپنے حالیہ بیان میں میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ برائے سال 2020-2021ء، 29 جون کو پیش کیا جائے گا اور کونسل سے اس کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی، حکومت سندھ کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کو بجٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ بات انتہائی افسوس کن ہے کہ حکومت سندھ نے کے ایم سی کی جانب سے بھیجی گئی کسی بھی ترقیاتی اسکیم کو منظور نہیں کیا اور کراچی میں اگلے سال ترقیاتی کام نہیں ہوسکیں گے۔

متعلقہ خبریں