محکمہ داخلہ سندھ نے وبائی امراض ایکٹ کے تحت مزید پابندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

March 18, 2020 5:40 pm

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::محکمہ داخلہ سندھ نے وبائی امراض ایکٹ کے تحت مزید پابندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ، جس میں کہاگیا ہے کہ حکومتی اقدامات کی خلاف ورزی پر فوری سزا ہوگی جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو غیر معمولی اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تجارتی مراکز، میڈیکل اسٹورز،اشیائےضروریہ کی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ سندھ بھر میں تمام شاپنگ مالز ، بیوٹی پارلرز، شورمز، الیکٹرونکس مارکیٹس بند رہیں گے۔ محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ سی ویو ،ہاکس بے،سینڈز پٹ، پیراڈائزپوائنٹ بھی بندہوں گے ، سندھ حکومت کی جانب سے پابندی آئندہ 15روز کیلئے ہوگی اور ہر طرح کی تجارتی وکاروباری سرگرمیاں 15روز کے لیے معطل رہیں گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ 19مارچ سےمکمل بند کردی جائےگی، گڈز ٹرانسپورٹ،ادویات کی ترسیل پر مامور گاڑیوں پرفیصلےکااطلاق نہیں ہوگا جبکہ نجی ادارے ملازمین سےگھروں سےکام لینےکوترجیح دیں۔
خیال رہے پاکستان میں کروناوائرس کےمریضوں کی تعداد 240 سے تجاوز کر گئی ہے ، سندھ میں نو نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرین کی تعدادایک سواکیاسی ہوگئی، سکھرمیں 134 ،کراچی میں 36 اور حیدرآبادمیں ایک مریض قرنطینہ سینٹر میں موجود ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں 181 لوگ کرونا وائرس کا شکار ہیں، تفتان سے آئے لوگوں میں تقریباً 50 فی صد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ بھر میں اب تک 3 اسپتالوں میں 844 لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، آغا خان میں 506، اوجھا کیمپس میں 61، انڈس اسپتال میں 277 ٹیسٹ ہوئے۔ وفاق نے آغا خان اور اوجھا کیمپس کو صرف 100 ، 100 کٹس دیں۔ سندھ حکومت نے 10 ہزار ٹیسٹس کرنے کی سہولت امپورٹ کی ہے، وفاق سے ہمیں ابھی تک صرف 200 کٹس موصول ہوئی ہیں۔
انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اجتماعی بھلائی کے لیے سندھ حکومت کے ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز بندش اور دیگر فیصلوں پر ساتھ دیا جائے، سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم خود کو 14 دن کے لیے قرنطینہ کر لیں۔ بندش کے فیصلے کا اطلاق دواؤں، پرچون، کریانوں، گروسری کی دکانوں پر نہیں ہوگا، سندھ حکومت کے فیصلے پر ابھی تک 100 فی صد عمل درآمد نہیں ہوا، دکانوں کو بند کرنے کے لیے کمشنر کراچی، پولیس حکام کو واضح احکامات ہیں، سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا گیا تو سخت اقدامات کریں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کرونا وائرس پر فنڈ قائم کر رہے ہیں، جس میں سندھ حکومت 3 ارب روپے دے رہی ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے ایک ماہ کی پوری تنخواہ فنڈ کے حوالے کی ہے، نیک لوگوں نے سندھ حکومت سے رجوع کیا اور مدد کی پیش کش کی، فنڈز کے استعمال کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی چیف سیکریٹری سندھ کریں گے، دوسرے رکن سیکریٹری خزانہ ہوں گے، کمیٹی میں پرائیوٹ سیکٹر کے بھی 3 نمایندے شامل ہوں گے۔آج کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اب تک 290 ٹیسٹس کا نتیجہ آ چکا ہے، 147 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، جب کہ 143 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا، 290 افراد تفتان سے سکھر کے قرنطینہ سینٹر لائے گئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ کرونا وائرس میں مبتلا کراچی میں 36 لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، یہ تعداد 38 تھی تاہم 2 مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں، مجموعی طور پر سندھ بھر میں 181 لوگ کرونا وائرس کا شکار ہیں

متعلقہ خبریں