کوروناوائرس کس وقت سب سے زیادہ (پھیلتا) ہے؟؟؟

March 14, 2020 1:30 pm

ویب ڈیسک ::آج کل ہر طرف کرونا وائرس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ فی الحال یہ ابتدائی نتائج ہیں تو مزید تحقیق سے ہی ان کی تصدیق ہوسکے گی۔ایسے افراد جو نئے نوول کورونا وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں، ان کی جانب سے کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد اولین 7 دن میں اسے دیگر صحت مند افراد میں منتقل کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں یہ نیا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا، جسے عالمی ادارہ صحت نے جنوری میں گلوبل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا اور جب سے ہی اس کے بارے میں جاننے کے لیے سائنسدان مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
نوول کورونا وائرس کے بارے میں جاننے کا بنیادی مقصد اس کی روک تھام کی موثر حکمت عملیوں کو ترتیب دینے میں مدد ہے۔
اگرچہ اب بھی اس وائرس کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس بہت تیزی سے پیش رفت کرتا ہے۔ فی الحال یہ ابتدائی نتائج ہیں تو مزید تحقیق سے ہی ان کی تصدیق ہوسکے گی۔
اب جرمنی کی جامعات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دریافت کرلیا ہے کہ یہ وائرس کس وقت سب سے زیادہ متعدی (پھیلتا) ہے۔
بنڈسوئیر انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی، Klinikum München-Schwabing، Charité Universitätsmedizin Berlin اور یونیورسٹی ہاسپٹل ایل ایم یو میونخ کی یہ تحقیق ابھی کسی جریدے میں شائع نہیں ہوئی، یعنی دیگر سائنسدانوں نے اب تک اس کے معیار اور مستند ہونے کا تجزیہ نہیں کیا۔
تحقیق کے نتائج سے ممکنہ عندیہ ملتا ہے کہ آخر کیوں یہ وائرس بہت آسانی سے پھیل رہا ہے، کیونکہ بیشتر افراد اس وقت اسے پھیلا رہے ہوتے ہیں، جب اس کی علامات معمولی اور نزلہ زکام جیسی ہوتی ہیں۔ تاہم محققین نے اس کو آن لائن شائع کیا ہے جس میں دیکھا گیا ہے کہ یہ وائرس مختلف مراحل میں کس طرح اور کن ذرائع سے پھیلتا ہے۔
محققین نے کووڈ 19 کے شکار 9 افراد کے متعدد نمونوں کا تجزیہ کیا جن کا علاج میونخ کے ایک ہسپتال میں ہورہا تھا اور ان سب میں اس کی شدت معتدل تھی۔
یہ سب مریض جوان یا درمیانی عمر کے تھے اور کسی اور مرض کے شکار نہیں تھے۔
محققین نے ان کے تھوک ، خون، پیشاب، بلغم اور فضلے کے نمونے انفیکشن کے مختلف مراحل میں اکٹھے کیے اور پھر ان کا تجزیہ کیا۔
مریضوں کے حلق سے لیے گئے نمونوں سے انکشاف ہوا کہ یہ وائرس جب کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، جبکہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں وائرس کے کسی قسم کے آثار دریافت نہیں ہوئے تاہم فضلے میں وائرل این اے موجود تھا۔
محققین کا کہنا تھا کہ یہ سارز وائرس سے بالکل مختلف ہے، جس میں وائرس کی منتقلی کا عمل 7 سے 10 دن میں عروج پر ہوتا ہے مگر نیا نوول کورونا وائرس میں یہ عمل 5 دن سے پہلے ہی تیز ہوجاتا ہے اور سارز کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جن افراد میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے، ان میں وائرس کے متعدی ہونے کا عمل 10 یا 11 ویں دن تک عروج پر پہنچتا ہے جبکہ معتدل مریضوں میں 5 دن کے بعد اس عمل کی شدت میں بتدریج کمی آنے لگتی ہے اور 10 ویں دن ممکنہ طور پر یہ مریض اسے مزید پھیلا نہیں پاتے۔
مگر محققین کے مطابق فضلے میں وائرس آر این اے کی موجودگی سے وہ وائرل کلچر بنانے میں ناکام رہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ممکنہ طور انفیکشن پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج کہ طبی عملے کو ہسپتال میں بستروں کی کمی پر قابو پانے کے لیے مریضوں کو ہسپتال سے جلد ڈسچارج کرنے اور خود کو الگ تھلگ کرنے کے عمل میں مدد مل سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی فرد میں علامات کو 10 گزر چکے ہیں تو اسے ہسپتال سے ڈسچارج کرکے گھر میں الگ تھلگ رکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں