جمہوری حکومت گرانے کے بیان پر مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے: وزیر اعظم

February 14, 2020 4:16 pm

ویب ڈیسک ::اسلام آباد: تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کی، صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں۔ ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کر رہا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔ مولانا کہہ چکے ہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا، ان کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔ مولانا کہہ چکے ہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا، ان کے اپنے بیان کے تناظر میں ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیئے۔ مولانا کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیئے، معلوم ہونا چاہیئے کہ انہیں کس نے یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے کہا کہ آٹا بحران پر ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں، ملک میں ہر جگہ کارٹیل ہے جو قیمتوں کو مرضی سے کنٹرول کرتا ہے، مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔
وزیرا عظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھا سکتے، بجلی کی قیمتوں سے متعلق آئی ایم ایف سے معاملات طے پا جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں پرچی والا پارٹی سربراہ نہیں، 22 سال جدوجہد کر کے اس مقام پر پہنچا ہوں۔ مجھ سے زیادہ لڑنا کوئی نہیں جانتا۔ حکومت گرانے کی باتیں اس لیے ہیں کہ اپوزیشن کی سیاسی دکان بند ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے درمیان افراتفری موجود ہے۔ اپوزیشن حکومت جانے کی باتیں صرف اپنی پارٹی اکھٹا کرنے کے لیے کرتی ہے، یہ سیاسی مافیا ہے ان کو مہنگائی کی نہیں اپنی ذات کی فکر ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میری ذات پر تنقید کریں تو فرق نہیں پڑتا، جس طرز پر ہماری حکومت کے خلاف خبریں دی گئیں ملک کو نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے لیے قوانین لا رہے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیو میٹرک سسٹم کو لازمی قرار دیں گے۔ سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے نہیں ہوں گے، شو آف ہینڈز سے سینیٹ الیکشن کا قانون لائیں گے۔
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اتحادیوں کے تحفظ دور کردیے ہیں۔ تحریک انصاف میں اختلافات پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں جس میں اختلاف نہ ہو، اپوزیشن جماعتوں کے اندر بھی اختلافات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں، خفیہ اداروں کو نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا علم ہے، دونوں اسی لیے فوج کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا صرف اور صرف سیکیورٹی کا خرچہ ہے، دنیا میں سب سے کم تنخواہ لینے والا وزیر اعظم ہوں، بعض میڈیا حلقوں نے فیک نیوز چلائیں جن پر کروڑوں جرمانے ہو سکتے تھے۔ میڈیا نے غلط خبروں کے ذریعے میری ذاتی زندگی کو بھی نشانہ بنایا، میں میڈیا فرینڈلی ہوں، پرویز مشرف سے کہا تھا چینلز کو لائسنس دیں۔ چین اور سعودی عرب طرز پر میڈیا نہیں چلانا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کے خلاف نہیں، خبروں میں غیر ذمہ داری کا عنصر نہیں ہونا چاہیئے۔ چین پہنچا تو اخباروں نے سی پیک معاہدے پر نظر ثانی کی ہیڈ لائن لگائی، غلط خبر کے باعث نقصان پہنچا اور ہمیں جواب بھی دینا پڑا۔ میرے خلاف کیسز بنے مگر پاکستان سے باہر نہیں گیا۔

جوکرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہی کوہوتا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہی ہوتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ملک میں ہرجگہ کارٹیل ہے جو قیمتوں کو مرضی سے کنٹرول کرتا ہے، مسابقتی کمیشن اپنا کردارادا کرنے میں ناکام رہا، بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھا سکتے، بجلی کی قیمت سے متعلق آئی ایم ایف سے معاملات طے پا جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جوکرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈرانہی کو ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں نہ پیسے بنا رہا ہوں، ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کررہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر آرٹیکل 6 (غداری) کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔ آٹا بحران سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اورخسرو بختیارکا نام نہیں۔Prime minister's interaction with #Media Persons#APPNews #PMImranKhan @MoIB_Official @ImranKhanPTI @PakPMO @PTIofficial @Dr_FirdousPTI

Posted by Daily Jiddat Karachi on Friday, February 14, 2020

متعلقہ خبریں