چیف جسٹس نے ڈیڈ لائن دے دی۔وفاق سرکلر ریلوے سندھ حکومت کو نہ دے,کراچی کے شہریوں کے لئے بڑی خبر

February 12, 2020 1:10 pm

اسلام آباد : جدت ویب ڈیسک :: سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کا آپریشن شروع کرنے کے لئے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی، چیف جسٹس پاکستان نے حکم میں کہا وفاق سرکلر ریلوے سندھ حکومت کو نہ دے، اپنے پاس رکھے اور دن رات کام کرائے، لوگ سرکلرریلوے بحالی کا انتظارکررہے ہیں، یہ وقت کچھ ڈلیورکرنےکا ہے، معاملہ سندھ حکومت پرچھوڑا تو سرکلرریلوے نہیں چل سکےگی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستان ریلوے میں خسارہ کیس کی سماعت ہوئی ، وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت میں شیخ رشید نے کہا میں آپ کا شکرگزار ہوں 12 دن میں بہت کام ہوا ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اورپوری قوم آپ کی شکرگزار ہے, یہ قوم کا پراجیکٹ ہے کسی کی ذات کےلئے نہیں۔
وزیر ریلوے نے بتایا رات کوبھی آپریشن کیا ہے، سرکلرریلوےمیں بہت مزاحمت سامنےآرہی تو چیف جسٹس نے کہا آپ لاہور یا کراچی میں 5 ،4 ریلوے کی پراپرٹیز بیچ دیں تو تمام کام ہوسکتے ہیں، جس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کراچی کی ایک پراپرٹی بیچنے سے بھی کام ہوسکتا ہے ، ہمیں سپریم کورٹ نے بیچنے سے روک رکھا ہے۔
دوران سماعت اسد عمر نے کہا ایم ایل ون کا پی سی ون اسی ماہ کے آخر تک ریلوے کودے دیں گے ، ایم این ون 9 بلین ڈالرز کا پراجیکٹ ہے، 15اپریل تک ایکنک ایم ایل ون کی منظوری دےگی اور انشااللہ ایم ایل ون کا کام شیخ رشید کے ہاتھوں ہو گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا بزنس پلان پر عمل کیسے اور کب ہوگا،جس پر شیخ رشید نے جواب میں کہا 5سال میں ایم ایل ون مکمل ہو جائے گا، کراچی سرکلر ریلوے کیلئےگزشتہ رات بھی عمارتیں گرائی ہیں، سرکلرریلوے پرسندھ حکومت بھی تعاون کرر ہی ہے۔  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے سندھ حکومت کوکیوں دے رہے ہیں، کراچی سرکلر کا حال بھی کراچی ٹرانسپورٹ جیسا ہو جائےگا، ہم توچاہ رہے تھے سرکلر ریلوے کے بعد کراچی ٹرام بھی چلائیں۔
جسٹس گلزار احمد نے شیخ رشید سے مکالمے میں کہاشیخ صاحب آپ کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے، سرکلر ریلوے کی تکمیل کے وقت کے علاوہ رپورٹ میں سب کچھ ہے، آپ نے نہیں بتایا کب تک کراچی سرکلر ریلوے مکمل کریں گے۔
سپریم کورٹ نے کے سی آر کی باقی5 کلومیٹر زمین ایک ماہ میں خالی کرانے اور اگلے ایک ماہ میں کے سی آر آپریشن شروع کرنےکاحکم دیتے ہوئے 3ماہ کے اندر کے سی آر آپریشن مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
وفاقی وزیر اسدعمر کا کہنا تھا کہ 3ماہ میں یہ نہیں ہوسکے گا، اس میں سندھ حکومت کو شامل کرنا پڑے گا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا سندھ حکومت کچھ نہیں کرےگی، معاملہ سندھ حکومت پر چھوڑا تو پھر کے سی آر نہیں چل سکےگی۔
جسٹس سجادعلی نے کہا آپ زمین خالی کرا کر چھوڑ دیں گے تو دوبارہ قبضہ ہوجائےگا،چیف جسٹس نے اسد عمر سے مکالمے میں کہا آپ کا ایک بیک گراؤنڈ ہے، آپ کوکام کرکے دکھانا ہے، لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کام کرے ، یہ وقت کچھ ڈلیور کرنے کا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ریلوے وفاق کے ماتحت ہے آپ اسے خود ٹیک اوور کرکے چلائیں اور ہدایت کی سندھ پر چھوڑ کر غیرآئینی کام نہ کریں، جس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 3ماہ میں سرکلر ریلوے مکمل نہیں ہو سکتا۔
جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آپ نہ ہونے والی بات کر رہے ہیں، آپ نہ سوئیں ہم بھی نہیں سو رہے، اپنے بندوں سے دن رات کام کرائیں، کام مکمل نہ کیا تو منصوبہ ردی میں چلاجائے گا، لوگ سرکلر ریلوے بحالی کا انتظار کر رہے ہیں، یہ منصوبہ آپ ہی چلائیں گے اور کوئی نہیں چلاسکتا۔
چیف جسٹس نے کہا سندھ حکومت سے کوئی کام نہیں ہوگا، سرکلر ریلوے سندھ حکومت کو نہ دیں اپنے پاس رکھیں، کراچی سرکلر کو سی پیک میں شامل کیوں کیا گیا، جس پر اسد عمر نے بتایا معاشی صورتحال کی وجہ سےسی پیک میں شامل کیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کراچی سرکلر کیلئے تو چین سے مہنگا قرض ملے گا اور ریلوے خسارہ کیس کی سماعت 2ماہ کے لئے ملتوی کرتے ہوئے سندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
یاد رہے سپریم کورٹ نے وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جبکہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، اٹارنی جنرل پاکستان اور سیکریٹری پلاننگ، چیف سیکریٹری سندھ، چیئرمین،سی ای او ریلوے و دیگر کو بھی نوٹس جاری کئے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے ریلوے سے بزنس پلان اور سرکلر ریلوے پر عملدرآمدرپورٹ طلب کر رکھا تھا جبکہ وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر سے ایم ایل ون کے ٹینڈر میں تاخیر پر جواب طلب کیا گیا تھا۔
یاد رہے 28 جنوری کو ہونے والے سماعت میں سپریم کورٹ نے ایم ایل ون کی منظوری ترجیحی بنیادوں پر دینے کا حکم دیتے ہوئے شیخ رشید سے ریلوے کا بزنس پلان طلب کرتے ہوئے کہا تھا پلان پرعمل نہ کیا توتوہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
عدالت نے کہا تھا سرکلر ریلوے ٹریک کی بحالی کیلئے مزید وقت نہیں دیا جائے گا، سرکلر ریلوےسے بے گھر ہونیوالوں کی بحالی ریلوے کی ذمہ داری ہوگی۔
سپریم کورٹ نے وزارت منصوبہ بندی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پروزیرمنصوبہ بندی اورپلاننگ کمیشن حکام کو طلب کرلیا تھا۔

متعلقہ خبریں