گورنر سندھ سے ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات ناکام،صوبائی وزیر کی تنقید، ہڑتال کا دوسرا دن

January 7, 2020 3:18 pm

کراچی: جدت ویب ڈیسک :گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا آج دوسرا دن ہے، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے معاملے کو تنقید کا نشانہ بنا لیا۔
تفصیلات کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے آج بھی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور آل کراچی ٹائر ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کر دی گئی ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کر دی ہیں، جس کے باعث پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ سمیت سبزیوں، پھلوں اور دواؤں کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کی 3 لاکھ سے زائد گاڑیاں ہیں جب کہ کراچی سے روزانہ 17 ہزار سے زائد گاڑیاں دیگر شہروں کو جاتی اور آتی ہیں۔
خیال رہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے مطالبات کی منظوری تک کل سے ہڑتال شروع کی ہے، ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس فیس تجدید میں 100 فی صد اضافہ کیا گیا، 18 سو روپے فیس کو 18 ہزار روپے کر دیا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، ایکسل لوڈ ایس آر او 2 ہزار پر حکومت اور موٹر وے پولیس عمل نہیں کر رہی، ایکسل لوڈ مینجمنٹ مؤخر کر کے اوور لوڈنگ پر مجبور کیا جا رہا ہے، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ایکسل لوڈ مینجمنٹ نافذ کی جائے۔
واضح رہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال میں صنعتوں اور بندرگاہوں سے درآمدی اور برآمدی سامان کی ترسیل روک دی ہے، کاٹھور پر احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے، جہاں مال بردار گاڑیاں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کے ترجمان امداد حسین نقوی نے کہا کہ ہڑتال کا آج دوسرا دن ہے اور تاحال وفاقی سطح پر کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، وفاقی وزارت مواصلات خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ادھر سکھر میں وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ قادر نے کہا ہے کہ مواصلات کی وزارت نا اہل اور نالائق شخص کے سپرد کی گئی ہے، ٹرانسپورٹرز کی ایک دن کی ہڑتال سے کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے، کوئی مسئلہ الجھ جائے تو سلجھانے کے طریقے ہوتے ہیں لیکن ٹرانسپورٹرز کے ساتھ معاملہ سلجھایا نہیں گیا۔
انھوں نے مواصلات کے وزیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نالائق وزرا بیٹھے رہے تو خان صاحب کو جلد پارلیمنٹ سے نکلوا دیں گے، وفاقی حکومت کو کوئی بھی مدد درکار ہے تو ہم ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں