بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کیس کا فیصلہ .نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ مسترد ۔۔مسلمانوں کو الگ مسجد کے لئے جگہ دی جائے

November 9, 2019 10:54 am

جدت ویب ڈیسک :بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا نا شروع کر دیا ہے جس میں نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا اور شعیبہ بورڈ کی درخواست خارج کر دی ہے ۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن جگکوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بین بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا رہا ہے ،6 دسمبر 1992 میں بھارتی انتہا پسند ہندوؤں نے بابر ی مسجد کو شہید کر دیا تھا ، سپریم کورٹ کے جسٹس نذیر واحد مسلمان جج ہیں ، ہائیکورٹ نے فیصلہ فیصلہ سنایا تھا کہ ایودھیا کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے جس میں سے ایک حصہ نرموہی اکھاڑے ، ایک حصہ رام مندر اور تیسرا حصہ سنی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا ۔جس کے خلاف سپریم کورٹ میں 14 اپیلیں دائر کی گئی تھیں ۔بھارتی سپریم کورٹ نے 16 اکتوبر کو سماعت مکمل کرتے ہوئے آج 9 نومبر کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا ۔بھارت میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔
بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہناہے کہ بابری مسجدخالی زمین پرتعمیرنہیں ہوئی، واضح نہیں کہ مندر کومنہدم کیاگیاتھا،عدالت کیلئے مناسب نہیں وہ کسی کے عقیدے پربات کرے،بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیزکے مفادات کاتحفظ کرتاہے،ہندووں کاخیال ہے یہ رام کی جنم بھومی ہے، عقیدے کی بنیادپرحق ملکیت طے نہیں ہوگی، بابری مسجدکے نیچے غیراسلامی عمارتی ڈھانچہ موجودتھا، 1856 تک وہاں نمازکاکوئی ثبوت نہیں تھا۔یاد رہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں دعویٰ کیاتھا کہ مسجد کی جگہ رام مندر ہوتا تھا جس کے بعد اسے شہید کر دیا گیا اور جھڑپوں میں تقریب دو افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔

متعلقہ خبریں