عدالت کا سندھ کے تمام اسپتالوں میں اینٹی رے بیز ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم

November 7, 2019 5:03 pm

کراچی: جدت ویب ڈیسک ::سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی سیکریٹری صحت کو حکم دیا ہے کہ صوبے کے تمام اسپتالوں میں اینٹی رے بیز ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
تفصیلات کے مطابق آج سندھ ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کی روک تھام اور ویکسین کی عدم دستیابی کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے صوبائی انتظامیہ کو حکم دیا کہ آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے پی سی ون 15 دن میں منظور کرایا جائے۔
قبل ازیں، کیس کی پیروی کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات، کے ایم سی، ڈی ایم سیز کے نمایندے اور وکلا پیش ہوئے، سیکریٹری بلدیات نے کتوں کی روک تھام سے متعلق رپورٹ پیش کی، ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ کتوں کی روک تھام سے متعلق پلان ترتیب دے دیا گیا ہے، پی سی ون بھی بنا لیا گیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پی سی ون پر عمل درآمد کیسے ہوگا اور ٹاسک فورس کب بنے گی۔ ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات نے عدالت کو بتایا کہ 2 دن میں ٹاسک فورس بنا دی جائے گی، سرکاری وکیل نے کہا کہ پی سی ون بھی ایک ماہ میں منظور کرا لیا جائے گا۔
عدالت میں درخواست دی گئی تھی کہ عباسی شہید اسپتال میں ویکسین نہ ہونے سے ایک شہری انتقال کر گیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عباسی شہید اسپتال میں ویکسین موجود نہیں ہے، نمایندہ کے ایم سی نے کہا کہ ہمارے پاس ویکسین ہے، جب کہ اسپتال کے نمایندے نے کہا وہ پرانا مریض تھا جو فالو اپ نہ کرانے کی وجہ سے انتقال کر گیا، کے ایم سی کے چاروں اسپتالوں میں ویکسین دستیاب ہے۔
کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی کے پاس فنڈز کی اب بھی کمی ہے، ہمارے پاس کتوں کو مارنے کے لیے زہر دستیاب نہیں، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر زہر نہیں ہے تو پھر کیا کام کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، عدالت میں وکیل ڈی ایم سی شرقی، ملیر، غربی، وسطی اور دیگر نے بھی رپورٹس جمع کرائیں، کلفٹن، شاہ فیصل اور کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے وکیل پیش ہوئے، جب کہ کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے بھی وکالت نامہ جمع کرایا گیا، عدالت نے پوچھا کہ ملیر اور منوڑہ کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے کوئی کیوں نہیں آیا، آیندہ سماعت پر تمام کنٹونمنٹ بورڈز اپنے جوابات جمع کرائیں، کنٹونمنٹ بورڈز بتائیں وہ کتوں کی روک تھام کے لیے کیا کر رہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ٹاسک فورس کے ٹی او آرز دیکھنے کے بعد مزید کارروائی کریں گے، امید ہے فریقین اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کوششیں کریں گے، عوام کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا پڑیں گے، 15 دن میں پیش رفت نہ ہوئی تو ذمہ دار کے خلاف کارروائی کریں گے۔

متعلقہ خبریں