ایمرجنسی نافذ۔ہاکس بے، ابراہیم حیدری، کیماڑی زیر آب

October 28, 2019 7:28 pm

کراچی: جدت ویب ڈیسک :ہاکس بے کے چند علاقے، ابراہیم حیدری، اور کیماڑی کے ساحلی علاقے زیر آب آ گئے، میئر کراچی وسیم اختر نے سمندری طوفان کیار کے پیش نظر مختلف محکموں کو الرٹ کر دیا، ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بحیرۂ عرب میں اب تک کا سب سے طاقت ور سمندری طوفان کیار نے کراچی کی ساحلی پٹی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، مختلف ساحلی علاقوں کے 300 سو سے زیادہ مکانوں میں پانی داخل ہو گیا، لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی، ہاکس بے روڈ ڈوب گئی ہے، ڈی ایچ اے گالف کلب بھی زیر آب آ گیا، سمندری طوفان کی پیش گوئی کر دی گئی ہے، میئر کراچی نے ایمرجنسی نافذ کر دی۔
ادھر سمندری طوفان سے ٹھٹھہ کے 51 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں، سجاول کے علاقے شاہ بندر اور جاتی کے کئی دیہات میں پانی داخل ہو چکا، بلوچستان کے علاقے مکران کی مختلف ساحلی آبادیاں بھی زیر آب آ گئی ہیں، ساحل کے قریب نمک پلانٹس تباہ ہو گئے۔
میئر کراچی نے کہا ہے کہ سمندری طوفان کے پیش نظر شہری ساحل پر جانے سے گریز کریں، اور پہلے سے موجود شہری فوری ہاکس بے خالی کر دیں۔
ادھر حکومت کی جانب سے کیٹی بندر، فش ہاربر سے ماہی گیروں پر لانچیں سمندر میں لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور ماڑہ، گوادر، پسنی کے ماہی گیروں پر بھی سمندر میں لانچیں لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کو 28 سے 30 اکتوبر تک سمندر میں جانے سےروک دیا گیا ہے، طوفان کیار کے پیش نظر ماہی گیر سمندر میں جانے سے گریز کریں۔
کمشنر کراچی افتخار شالوانی کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ کو سمندر کے اطراف دفعہ 144 لگانے کی درخواست کر دی گئی ہے، آج رات سمندری پانی سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے لیے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے سمندری طوفان کیار کے زیر اثر آ چکے ہیں، ڈام بندر، اورماڑہ، کنڈ ملیر میں بھی سمندری پانی رہایشی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے پی ڈی ایم اے کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ضیا لانگو نے پیغام جاری کیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں، ہنگامی صورت میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، پی ڈی ایم اے کے ضلعی افسران اور اہل کار جائے تعیناتی پر موجود رہیں۔ انھوں نے زیر اثر آنے والے علاقوں میں اشیائے خور و نوش بھی موجود رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں