مقدمات کا فیصلہ 2 سال تک کرنے کی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے، فردوس عاشق اعوان

Firdous Ashiq Awan
September 15, 2019 5:04 pm

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک :معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنیکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے۔ سمن کے اجرا ، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سول پروسیجر کوڈ کا ترمیمی بل حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھتے موجودہ حکومت کے لیے مثبت قدم ہے، ایک نسل مقدمہ درج کرتی اور تیسری نسل تک پہنچ کر اس کا فیصلہ ہوتا تھا۔ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنیکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام میں خواتین کودستیاب وراثتی حق معاشرتی اورقانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو چکا تھاریاست مدینہ کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے معاشرے کے لیے پرعزم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل پانے والا یہ قانون خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا۔

متعلقہ خبریں