دل کھول کرشاپنگ کرنے کےمزے ختم ہو گئے ،پچاس ہزار سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار

July 23, 2019 7:54 pm

جدت ویب ڈیسک ::پچاس ہزار سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار ، خاتون اپنے شوہر یا والد کا شناختی کارڈ دکھا کرشاپنگ کرسکے گی ، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس سرکلر جاری کر دیا۔
دل کھول کرشاپنگ کرنے کےمزے ختم ہو گئے 50 ہزار کی خریداری پر قومی شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دے دیا گیا۔
ایف بی آر کے سیلز ٹیکس سرکلر کے مطابق فنانس ایکٹ 2019 کے تحت بعض محدود ٹرانزیکشنز پر قومی شناختی کارڈ لازمی قراردیدیا گیا ۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 23 میں ترمیم کردی گئی ۔
شناختی کارڈ کی فراہمی کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ خریدار بھی سیلز ٹیکس رجسٹرڈ فرد ہو ، قانون پچاس ہزار سے کم مالیت کی خریداری کی صورت میں شناختی کارڈ کی دستیابی کو لازمی قرار نہیں دیتا۔
کاروبار کی ترویج کے لئے قانون میں لچک موجود ہے ، اگر خریدار بیچنے والے کو غلط شناختی کارڈ فراہم کرتا ہے تو بیچنے والے کی نیک نیتی پر بیچی گئی اشیاء پر جرمانہ لاگو نہ ہو گا۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریٹیلرز جن کے لئے قوانین زیر تجویز ہیں وہ سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس قانون کا اطلاق بزنس ٹو بزنس ٹرانزیکشنز اور پچاس ہزار سے زائد مالیت کی ٹرانزیکشنز پر ہوگا۔
قانون کا مقصد جعلی کاروبار کی روک تھام ہے ، اس قانون کو قطعاً کاروباری افراد کو ہراساں اور کاروباری ٹرانزیکشنز میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
چیف کمشنر کی اجازت کے بغیر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا ، خاتون خریداری کےلئے اپنے شوہر یا باپ کا شناختی کارڈ استعمال کر سکے گی۔
سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ 41 ہزار 484 ایسے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد ہیں جو ریٹرنز کے ساتھ اصل ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں