کلبھوشن قونصلر رسائی کا مستحق نہیں, پاکستان کے ایڈہاک جج کا اختلافی نوٹ

July 18, 2019 6:46 pm

دی ہیگ (جدت ویب ڈیسک )پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی نے کلبھوشن جادیو کیس کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا جس کے مطابق نہتے پاکستانیوں کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنانے والا بھارتی دہشت گرد کلبھوشن جادیو کسی قونصلر رسائی کا مستحق نہیں۔
عالمی عدالت میں بھارت کا وکیل ہریش سالو یہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا کہ کلبھوشن جاسوس نہیں ۔ پاکستانی وکیل خاور قریشی نے کمانڈر کلبھوشن کو نیوی کا حاضر سروس افسر ،جاسوس اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ثابت کردیا،پاکستانی وکیل نے تاریخی عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے ۔
پاکستانی وکیل نے بین الاقوامی قانون کے پیرائے میں ثابت کیا کہ جاسوس اور تخریب کار کو قونصلر رسائی کا حق حاصل نہیں ، پاکستانی وکیل نے امریکہ اور روس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کی مثال دی۔
امریکا اور روس کے مابین تحویل مجرمان کے دوران قونصلر رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ بھارت 60 سالہ تاریخ میں عالمی عدالت سے ویانا کنونشن کے تحت ایسی رعایت مانگنے والا پہلا ملک ہے۔پاکستان اور بھارت کے مابین 1982 اور 2008 کے در طرفہ معاہدے موجود ہیں۔
ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی فراہم کربھی دی جائے تو بھی رہائی یا مقدمہ ختم ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
بھارت 2017 تک کمانڈر کلبھوشن یادیو کو اپنا شہری ماننے کو ہی تیار نہ تھا۔قونصلر رسائی مانگنے سے قبل بھارت کو یہ تسلیم کرنا تھا کہ کلبھوشن ان کا شہری ہے۔بھارتی شہری کلبھوشن یادیو ہے یا حسین مبارک پٹیل، شناخت مبہم ہے،جب شناخت ہی واضح نہیں تو قونصلر رسائی کیسے دی جائے۔
پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی کا فیصلے پر اختلافی نوٹ سامنے آ گیا ، جسٹس تصدق جیلانی کہتے ہیں ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا ،
بھارتی درخواست قابل سماعت قرار نہیں دی جانی چاہیے تھی ،بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔

متعلقہ خبریں