نیب کامقصد صرف کیس بنانا اور پکڑدھکڑ نہیں، ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے چیف جسٹس برہم

May 23, 2019 4:55 pm

اسلام آباد :جدت ویب ڈیسک :: سپریم کورٹ نے ملزم عطا اللہ کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد کردی ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا نیب کامقصد صرف کیس بنانا اور پکڑدھکڑ نہیں، بلکہ کیس ثابت کرنا ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے، نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملزم کی بریت کیخلاف نیب اپیل کی سماعت چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ناقص تفتیش پر نیب حکام کوکھری کھری سُنا دیں۔
چیف جسٹس نے کہاکہ نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں ہے،نیب کو چاہیے جس پر کیس بنائے شواہد بھی ساتھ لگائے، انیس سال سے ملزم کو رگڑا لگایا جا رہا ہے، ان انیس سالوں کا ازالہ کیسے کرے گا؟ ملزم پر جس عہدے کی بنیاد پر کرپشن کا الزام اس عہدے کا ثبوت تک نہیں۔
جسٹس آصف کھوسہ کا کہناتھا نیب آخر کرتا کیا ہے؟ کیا نیب کا مقصد صرف کیس کو بنانا ہے؟ نیب کا مقصد کیس ثابت کرناملزم کو سزا دلوانا بھی ہے، نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
بعد ا زاں سپریم کورٹ نے ملزم عطا اللہ کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد کردی۔

متعلقہ خبریں