نیشنل ایکشن پلان کے تحت رواں ماہ فوجی عدالتوں کی مدت مکمل ہو رہی ہے

March 14, 2019 5:02 pm

جدت ویب ڈسیک :۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت رواں ماہ فوجی عدالتوں کی مدت مکمل ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت نہ کیے جانے کا امکان ہے۔فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر حکومت نے تاحال اپوزیشن سے رابطہ نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر تاحال اپوزیشن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ حکومتی رابطے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع دینے یا نہ دینے کے معاملے پر مشاورت کریں گے۔
اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔یاد رہے کہ حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اور کہا جا رہا تھا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر جلد اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا، حکومت معاملہ پر قومی اتفاق رائے چاہتی ہے۔ وزارت قانون نے وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر مسودہ تیار کر لیا تھا اورامکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی جائے گی لیکن تاحال حکومت نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف سے اس معاملے میں کوئی رابطہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ فوجی عدالتیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2015ء میں قائم کی گئی تھیں۔ 2017ء میں فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آئینی ترمیم کا بل منظور کیا تھا۔ صدر مملکت نے منظور شدہ بل کے مسودے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد بل آئین کا حصہ بن گیا تھا تاہم اب بل کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت 6 جنوری کو ختم ہو چکی تھی۔

متعلقہ خبریں