عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس میں متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کے لیے اپیل مسترد کردی

February 19, 2019 2:51 pm

دی ہیگ: جدت ویب ڈیسک ::عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی ناسازی طبع کے باعث عدالت نہیں آئے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے تصدق حسین جیلانی کی علالت کے باعث متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کی اپیل کی۔عالمی عدالت کی جانب سے پاکستان کی اپیل رد کئے جانے کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دینا شروع کئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی بھارت میں کی جاتی ہے، اسی تناظر میں پاکستان میں بھارت کے ایجنٹ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت میں دیئے گئے اعترافی بیان اس بات کا ثبوت ہیں کہ کلبھوشن سے کسی دباؤ کے بغیر بیان لیا گیا۔ پاکستان واضح کرنا چاہتا ہے ہم تمام زیرالتوا مسائل کا پرُامن حل چاہتے ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی وکیل ہریش سالوے نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کیس مبالغہ آمیز معلومات پر مبنی ہے، عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کی رہائی کا حکم دے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالت انسانی حقوق کو حقیقت میں تبدیل کرکے دکھائے۔
واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔
پاکستان اور بھارتی وکلاء کے دلائل کے بعد بحث و جرح کا آغاز ہوگا، 20 فروری کو بھارت جب کہ جمعرات 21 فروری کو پاکستانی وکیل بحث کریں گے۔ کلبھوشن یادیو کیس کی جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں