اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس انتخابی دھاندلی سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لئے تحریک قومی اسمبلی میں پیش

September 18, 2018 12:00 pm

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::: انتخابی دھاندلی سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لئے تحریک قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی جس پر ارکان کی جانب سے بحث کی جارہی ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت وفاقی وزرا اور اپوزیشن ارکان موجود ہیں۔
منی بجٹ آج پیش کیا جائے گا
وفاقی حکومت کی جانب سے آج کے اجلاس میں منی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کابینہ سے حاصل کرلی گئی ہے۔
منی بجٹ میں سُپر ٹیکس سمیت 158 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 450 ارب روپے کی کمی کی جا رہی ہے ۔
وفاقی کابینہ نے منی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی
ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں بجٹ خسارہ 6.6 فیصد کم کرکے پانچ فیصد تک لانے کی تجویز پر غور کیا گیا اور مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.1 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ترقیاتی بجٹ میں 725 ارب روپے کمی اور نان فائلر کی بینکنگ سے لین دین پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت 608 ارب روپے تک اخراجات کم کرے گی، حکومتی اداروں، بڑی عمارتوں اور وزرا کے خرچوں کو کم کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے انتخابی دھاندلی سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک پیش کی گئی جس کے متن کے مطابق مبینہ انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان شامل ہوں۔
تحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز تیار کرے گی اور آئندہ دھاندلی کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات تجویز کرے گی۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دی جائے اور شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی حزب اختلاف کو دی جائے۔
اسی طرح کا مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین تحفظات ہیں اس لیے پارلیمانی کمیٹی میں برابر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کے پاس ہونی چاہیے۔
عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی، حکومت کا پارلیمانی کمیشن بنانے کا فیصلہ
اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمانی کمیشن بااختیار ہوگا اور ہم کسی چیز کو پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے، شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا تاہم اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے، ان کا نکتہ اعتراض رجسٹر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اپنا موقف پیش کریں، اس کو سنا جائے گا، شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہے، ہم نے اپوزیشن کے موقف پر سر تسلیم خم کیا ہے، ، جمہوری قدروں کی مضبوطی اصولی موقف ہے اور اختلافات کے باوجود آگے بڑھنا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک ہی مطالبہ سامنے آنے پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی کمیٹی بناؤں گا رولز کے مطابق بناؤں گا۔

متعلقہ خبریں