اسلام آباد: ہائیکورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ سنادیا،ملزمان کو ایک ایک سال قید اور50 ہزار جرمانے کی سزا سنادی

April 17, 2018 11:57 am

جدت ویب ڈیسک ::اسلام آباد ہائیکورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشددکے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک ایک سال قید اور 50 ، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ملزمان کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق سنایا۔ حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے آج طیبہ پر تشدد کرنےوالے ملزمان سابق جج راجہ خرم علی خان اور اس کی اہلیہ ماہین ظفر کو بھی طلب کررکھا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایا، 10فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی، مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، گواہوں میں گیارہ سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔واضح رہے کہ سابق جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر کام کرنے والی کمسن گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا از خود نوٹس بھی لیا تھا۔کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016کو سامنے آیاتھا، سابق جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ملزمہ ماہین ظفر نے اپنے گھر میں کام کرنے والی کمسن ملازمہ طیبہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے 29 دسمبر کو سابق جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کی، دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم 3جنوری 2017کو طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اس کی اہلیہ کو معاف کردیا۔ راضی نامے کی خبر نشر ہونے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا، سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8 جنوری 2017 کو طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا، بعدازاں عدالتی حکم پر 12جنوری 2017کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا۔

متعلقہ خبریں