اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا،چور سے لگتا ہے کراچی ، سال 2018 میں بھی اسٹریٹ کرائمز میں کمی نہ آسکی

December 27, 2018 1:09 pm

جدت ویب ڈسیک )اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا،چور سے لگتا ہے کراچی ، سال 2018 میں بھی اسٹریٹ کرائمز میں کمی نہ آسکی ……گزشتہ سال کی نسبت رواں برس کے گیارہویں مہینے میں بھی جرائم کےو اقعات زیادہ ہوئے اور موٹرسائیکلوں کی جوتعداد 1962تھی وہ رواں سال اضافے کے ساتھ 2109تک جا پہنچی اور موبائل فونز بھی گذشتہ برس 2549سی پی ایل سی ریکارڈ کا حصہ تھے جبکہ اس برس ماہ نومبر میں 3255موبائل فونز سے شہری محروم ہوئے۔ سندھ پولیس ان دنوں امن وامان کی صورتحال بہتر کرنے اور کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے کے راگ الاپنے میں مصروف ہے مگر ادارہ سی پی ایل سی کے اعدادوشمار اسٹریٹ کرائم میں کمی سے متعلق پولیس حکام کے دعووں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ۔سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2017 میں رہا کراچی والوں کے لئے ہرلمحہ لٹ جانے کا خطرہ رہا مگر 2018 میں بھی حالات کچھ بہتر نہ ہوئے بلکہ مزید خراب ہوگئے۔
جنوری 2017 میں کراچی سے 1848موٹر سائیکلیں اور 2622موبائل فونز چھینے وچوری کئے گئے مگر سال 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 2072 اور 2757ہوگئی۔
فروری 2017 میں کراچی والوں کو 1796موٹر سائیکلوں اور 2329موبائل فونز سے محروم کیا گیا جبکہ رواں برس کے اسی ماہ میں یہ تعداد اضافے کے ساتھ 1952موٹر سائیکلوں اور 2582موبائل فونز تک جا پہنچی ۔گذشتہ برس مارچ میں کراچی والوں سے 2090موٹرسائیکلیں اور 2436موبائل فونز چھینے اور چوری کئے گئے جبکہ رواں برس تیسرے ماہ میں یہ اعدادو شمار 2080موٹرسائیکلوں اور 2476موبائل فونز تک جا پہنچے ۔
گذشتہ برس ماہ اپریل میں 2061موٹرسائیکلوں اور 2650موبائل فونز سے شہریوں کو محروم کیا گیا جب کہ اس برس اسی ماہ میں 2149 موٹرسائیکلوں اور 2576 موبائلوں کو مالکان سے دور کر دیا گیا۔
گزشتہ برس کی مئی میں 2202 موٹرسائیکلیں اور 2334 موبائل فونز لٹیروں کے ہاتھ لگے جب کہ امسال کی مئی نے شہریوں کو2370 موٹرسائیکلوں اور 2640 موبائل فونز سے محروم کیا۔
جون 2017 میں اہلیان کراچی 2409موٹرسائیکلوں اور 2171 موبائل فونز سے محروم ہوئے تھے ، امسال انہیں 2573موٹرسائیکلوں اور 2937 موبائلوں سے محروم کیا گیا۔

متعلقہ خبریں