رواں مالی سال میں کسی محکمے کے لئے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

Murad Ali Shah CM Sindh
September 18, 2018 10:45 pm

کراچی جدت ویب ڈیسک :وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں کسی محکمے کے لئے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدیں گے۔وزیر اعظم نے سندھ حکومت کے کسی معاملے پر روبرو ڈیڈ لائن نہیں دی، گورنر سندھ حکومت نہیں، اپنا آئینی کردار ادا کریں۔ جلد ملازمتوں پر پابندی ہٹا دیں گے۔کالا باغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے، عوام کو کالا باغ ڈیم نامنظور ہے۔کسی بھی غیر قانونی مقیم فرد کو شہریت نہیں ملنی چاہیے، ملک کے قانون کے مطابق شہریت دی جائے گی۔منگل کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق سے ہمیں 49 ارب روپے کم ملے ہیں، کراچی کے پانی کے منصوبے کے فورکی لاگت بہت بڑھ گئی ہے اوراس کے لیے ہمیں وفاق کی مدد درکارہوگی، سندھ میں کم اورتاخیر سے رقم منتقلی کا معاملہ وزیراعظم کے سامنےاٹھایا ہے ، ہمیں نئی ترقیاتی اسکیم میں 26 ارب روپے کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے، وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے لیے ہماراساتھ دیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ میں نے کوئی لگژری گاڑی نہیں خریدی جب کہ رواں مالی سال میں کسی بھی محکمے کے لیے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی جائے گی، صرف آپریشنل گاڑیوں کی خریداری کی اجازت ہوگی اور آپریشنل وہیکلز میں صرف پولیس اور ایمبولینس گاڑیاں شامل ہوں گی۔لگژری گاڑی استعمال کرنے سے گریز کرتا ہوں، پرانی گاڑیاں خریدنے والا کوئی نہیں، کوئی ملے تو میری گاڑی بھی بھیج دیں۔ گاڑیاں، بھینسیں بیچنے کے بجائے دودھ بیچیں تو بچت ہوگی، بھینسیں سستی بیچنے والوں پر 4 سال میں نیب میں مقدمہ بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور تحریک انصاف اب جلسوں سے باہر نکل آئیں، ان کو اب پتہ چلے گا کہ حکومت کیسے چلتی ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی میں اضافہ کر دیا ہے۔امراد علی شاہ نے بتایا کہ لاڑکانہ میں واٹرسپلائی اسکیم نہیں تھی، رواں مالی سال کے بجٹ میں لاڑکانہ واٹرسپلائی اسکیم شامل کی ہے۔ پورے صوبے میں 41 ٹراما سینٹرز میں بنارہے ہیں، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزاسپتالوں کی طویل عرصے سے جاری اسکیمیں جلد مکمل کی جائیں گی، 17 ڈسڑکٹ تعلقہ اسپتال رواں مالی سال میں مکمل کریں گے، واٹر کمیشن کی اسکیمیں بھی نئے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہیں، 60 کلومیٹر کے کوسٹل ہائی وے منصوبے پر آٹھ ارب روپے لاگت آئےگی۔ گرین لائن منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہوا،اس لیے بسیں نہیں خریدیں، بسیں خریدنے کی بات وفاق نے کی ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ وزیراعظم نے دورہ کراچی میں ڈیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے جسے 3 صوبوں کی اسمبلیاں مسترد کرچکی ہیں، اگر وزیراعظم نے کہا ہے کہ 80 فیصد پانی سمندر برد ہورہاہے تویہ غلط بیان ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے سندھ حکومت سےکچرے کےمعاملے پربھی کوئی بات نہیں کی، کچرے سے متعلق جو کہا کسی اور سے سننے کو ملا ، 2 مہینے میں کچرا اٹھانے والی بات گورنر سندھ سے کی گئی ہو تو الگ بات ہے، لیکن گورنر سندھ حکومت نہیں ہیں گورنر اپنے آئینی وقانونی حدود میں رہیں گے تو بہتر ہوگا۔انہوںنے کہا کہ وفاق نے کہا تھا کہ آپ کو 5 سو ارب دیں گے، 30 جون تک ہمیں 49 ارب سے بھی کم ملے، وفاق سے رقم کم ملنے پر سندھ کا بجٹ متاثر ہوا۔انہوں نے بتایا کہ نئی اسکیموں میں واٹر کمیشن کی سفارشات کے تحت اسکیم شامل کی، کوسٹل ہائی وے کی اسکیم کے لیے رواں سال 2 ارب رکھے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے سندھ افسران کے تبادلوں پر بات ہوئی۔ سندھ کے افسران کی بین الصوبائی تقرریاں رولز کے مطابق ہونی چاہئیں۔ کسی بھی غیر قانونی مقیم فرد کو شہریت نہیں ملنی چاہیے، ملک کے قانون کے مطابق شہریت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سندھ حکومت کے کسی معاملے پر روبرو ڈیڈ لائن نہیں دی، گورنر سندھ حکومت نہیں، اپنا آئینی کردار ادا کریں۔ جلد ملازمتوں پر پابندی ہٹا دیں گے۔ وزیر اعظم سے ڈیم سے متعلق بات نہیں ہوئی، کالا باغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے، عوام کو کالا باغ ڈیم نامنظور ہے۔

متعلقہ خبریں