ورلڈ بینک شہر کے ڈرینج انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے لئے پیکیج تیار کریگا‘میئر کراچی

waseem akhtar mqmp
March 14, 2018 10:22 pm

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی میں برساتی نالوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اور قریبی آبادیوں کو سیلابی ریلے سے محفوظ رکھنے کے لئے ورلڈ بینک کی ٹیم مختلف بڑے نالوں کا سروے اور اسٹڈی کر رہی ہے جس کے بعد ورلڈ بینک شہر کے ڈرینج انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے لئے پیکیج تیار کرے گا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی و دیگر اداروں کے تعاون اور اشتراک سے اس پر عملدرآمد کیا جائے گا، یہ بات گجر نالہ اور اورنگی نالہ کی اسٹڈی کرنے والے ورلڈ بینک کے ماہرین پر مشتمل وفد نے بدھ کے روز بلدیہ عظمیٰ کراچی کے صدر دفتر کے دورے کے موقع پر ایک بریفنگ میں بتائی جس میں ڈائریکٹر جنرل ورکس شہاب انور، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ٹو میئر کراچی ایس ایم شکیب، ڈائریکٹر انسداد تجاوزات بشیر صدیقی، مختلف اضلاع کے چیف انجینئرزاور دیگر افسران بھی موجود تھے جبکہ ورلڈ بینک کی نمائندگی سینئر اربن اسپیشلسٹ Yoou Hee Kim، اربن اسپیشلسٹ Takahi Mosihi، اینالسٹ کبیر داوانی ،اربن اسپیشلسٹ صہیب اختر کر رہے تھے، بریفنگ کے دوران ورلڈ بینک کے وفد کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام 30 بڑے برساتی نالوں کی گزرگاہوں اور اطراف کی آبادیوں میں نکاسی آب کے مسائل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، ان نالوں میں اورنگی نالہ، گجرنالہ، لیاری نالہ، پچر نالہ، کلری نالہ، سونگل نالہ، کالا بورڈ نالہ، ملیر نالہ، کورنگی نالہ، سولجر بازار نالہ ، منظور کالونی نالہ اور دیگر نالے شامل ہیں جن قدرتی نالوں کو تجاوزات قائم کرکے بند کیا جا چکا ہے ان کے متعلق بھی ضروری ڈیٹا بھی پیش کیا گیا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ کراچی میں کون سے قدرتی نالے بحال ہیں اور کن نالوں کو سیوریج نالوں میں تبدیل کیا جاچکا ہے، ورلڈ بینک کے ماہرین نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں قدرتی طور پر نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں کے شدید بارشوں کی صورت میں سیلابی کیفیت کا سامنا کرنے کا خطرہ موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے فوری سروے اور ڈرینج سسٹم کی ری ماڈلنگ ضروری ہے، اس موقع پر کورنگی نالے کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس کی لمبائی تقریباً33 کلو میٹر ہے اور یہ لانڈھی اور کورنگی کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہے، ورلڈ بینک کے ماہرین کورنگی نالے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیں گے جس کے بعد سولجر بازار کی نالے کی اسٹڈی کی جائے گی، ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹائون سے گزرنے والے نالے پر جگہ جگہ تجاوزات قائم ہونے کی وجہ سے قریبی بستیوں کو لاحق شدید سیلابی خطرے کے پیش نظر ورلڈ بینک کے ماہرین نے اس علاقے میں انسداد تجاوزات کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ کراچی کے جن نالوں میں نکاسی آب کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے ان کی بحالی کے لئے بنائے گئے پلان کی مکمل فزبیلٹی رپورٹ ملنے کے بعد کام شروع کردیا جائے گا، عالمی بینک کراچی میں نکاسی آب کے نظام کو بتدریج بہتر بنانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں شہری اداروں سے تعاون اور اشتراک کے لئے مختلف وفود ملاقاتیں کر رہے ہیں جن کے مفید نتائج برآمد ہوں گے، اجلاس کے دوران میئر کراچی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایس ایم شکیب نے عالمی بینک کے ماہرین کو یقین دلایا کہ برساتی نالوں کی بحالی اور فلڈنگ سے بچائو کے لئے عالمی بینک کے تعاون کو اہمیت دیتے ہیں اور میئر کراچی وسیم اختر کی یہ خواہش ہے کہ اس سلسلے میں عالمی بینک کے اربن اسپیشلسٹ اور دیگر ماہرین کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے اور کراچی میں برساتی اور سیوریج واٹر کی نکاسی کا نظام بہترین خطوط پر استوار کیا جائے جس سے برسات کے دوران شہریوں کو سیلابی ریلے سے محفوظ رکھنے اور نشیبی آبادیوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا اور مختلف نالوں کے سروے اور اسٹڈی کے سلسلے میں تمام تر درکار ڈیٹا اور تفصیلات فراہم کی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ میئر کراچی نے عالمی بینک کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے اور کے ایم سی کے تمام متعلقہ افسران اور انجینئرز ہر قسم کا تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں